Home / کالمز / آج کے کالمز / کامیابی کے تین سنہری اصول (کالم نگار: محمد شہروزرشید )

کامیابی کے تین سنہری اصول (کالم نگار: محمد شہروزرشید )

کامیابی کے تین سنہری اصول

کالم نگار: محمد شہروزرشید

زندگی اللہ کی دی ہوئی انمول نعمت ہے۔جس کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہے۔اسکو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے کوئی objectives مقرر کیے جائیں۔زندگی گزارنے کا کوئی نہ کوئی نظدیہ ہونا چاہیے۔ایک طالبعلم کی زندگی کا نظریہ کیا ہوتاہے؟ یا کیا ہونا چاہیے۔
ایک طا لبعلم کی زندگی کا نظریہ کچھ حاصل کرنا آگے بڑھنا۔کچھ حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلا کام محنت کرنا ہے۔آپ دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی ہسٹری پڑھیں ۔انکی کامیابی کا راز صرف اور صرف محنت ہے۔
ایک صحافی محمد علی کلے(باکسر) سے ملنے جم چلا جاتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ محمد علی پش اپس کر رہہے ہیں۔وہ ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرتا ہے۔محمد علی فارغ ہو کر آتے ہیں تو وہ آدمی سوال کرتا ہے کہ آپ نے کتنے پش اپس کیے ہیں۔محمد علی نے جواب دیا کہ وہ تب تک گننا شروع نہیں کرتے جب تک انہیں درد محسوس ہونا شروع نہیں ہوتا۔یہ ہوتی ہے محنت ہے۔اپنے کام سے لگن۔کچھ پا لینے کی جستجو۔محنت سے جی چرانے والا انسان ناکام ہونے کی وجہ اپنی سستی کو نہیں مانتا بلکہ وہ بہانے بناتا ہے۔
میری صحت ٹھیک نہیں تھی۔مجھے کوئی گائیڈ کرنے والا نہیں تھا۔وغیرہ وغیرہ۔کبھی کامیاب انسان کسی کمی کا رونا روتے نہیں دیکھا گیا۔
کامیابی حاصل کرنے کے تین اصول ہیں۔سب سے پہلا اصول ہے محنت ۔محنت اورصرف محنت ۔دن رات، صبح و شام رصرف اور رصرف محنت ۔یاد رکھیے محنت کا پھل ضرور ملتا ہے۔ کام میں جت جانا۔لگن سے دلچسپی سے کچھ حاصل کرنے کی مسلسل کوشش کا نام ہے محنت۔
بلب ایجاد کرنے والے نے چھ ہزار بار تجربہ کیا تھا۔پھر وہ بلب بنانے میں کامیاب ہوا تھا۔ناکامی کا خوف دل سے نکال دیں۔بلکہ اپنی زندگی سے ہی نکال دیں ۔اگر بلب کا موجد بھی اتنی ناکامیوں کی وجہ سے مایوس ہو کر تجربات کرنا چھوڑ دیتا تو آج شایر ہم اندھیروں میں ہی رہ رہے ہوتے۔زندگی کچھ اور طرح کی ہوتی ۔آپ کبھی کسی سپورٹس مین سے ملیں ہیں۔؟سپورٹس مین اپنی ہار کے بعد نئے عزم سے میدان میں اترتا ہے۔نئے حوصلے، جوش اور ولولے سے۔سینہ تاں کر پچھلی ناکامی کو بھول کر۔وہ نئی تاریخ رقم کرنے کا سوچ کر میدان میں اترتا ہے۔اور پھر وہ اپنی ہمت اور محنت سے جیت کی خوشی بھی حاصل کر لیتا ہے۔دوسرا اصول ہے۔وقت کا صیح استعمال ۔
یہ بات یاد رکھیے گا کہ دنیا میں انہی قوموں نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے ہیں جنہوں نے وقت کا مفید استعمال کیا ۔آپ نے اپنے بزرگوں سے استادوں سے سنا تو ہو گا کہ۔۔۔وقت کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔وقت بند مٹھی سے ریت کی طرح پھسل جاتا ہے۔ کسی حد تک یہ باتیں ٹھیک بھی ہیں۔لیکن میں ان سب باتوں سے 100فیصد اتفاق نہیں کرتا۔کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہم وقت کو قید کر سکتے ہیں۔نہ صرف قید کر سکتےہیں بلکہ اپنا غلام بھی بنا سکتے ہیں ۔ اگر ہم وقت کا صیح استمعال کرنا سیکھ لیں ۔وقت کا صیح استعمال کیا ہو تا ہے؟
وقت کی اہمیت کو جاننا۔اسکی قدر کرنا۔وقت کو اپنا دوست یا دشمن آپ خود بناتے ہو۔آج جس جگہ پر آپ موجود ہو دس سال بعد آپ کچھ بھی کر لیں یہ وقت واپس نہیں آئے گا ۔البتہ اگر آپ اس وقت کو جو آپکی دسترس میں ہے ایک فیصلہ کر لیں کہ اس وقت کو ہم نے اپنا دوست یا غلام بنانا ہے۔اس وقت کی محنت اور لگن سے آپکو وہ کامیابیاں حاصل ہونگی جو آپکے مستقبل کا فیصلہ کریں گی۔لیکن اگر آپ کو جو ٹائم حاصل ہے اس کو آپ ضائع کر دیتے ہیں۔آپ نے اسے اپنا دشمن بنا لیا۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے !کہ وقت کے صیح استعمال سے آپ اس اپنا دوست یا غلام بنالیے ہو۔لیکن آپ کا ایک غلط فیصلہ وقت آنے پر آپکو پتا چلے گا کہ آپ نے اسے اپنا دشمن بنا لیا تھا۔اور وقت کی دشمنی بہت مہنگی اور ناقابل معافی ہوتی ہے۔لہذا اپنے وقت کا صیح استعمال کریں۔وقت کو اپنی مٹھی میں بند کرلیں۔فون انٹرنیٹ، ٹیلیویژن اور کھیل کود یہ سب زندہ رہنے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے ضروری ہیں۔موجودہ وقت میں انکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن خود کو ان چیزوں کا ماتحت مت بنائیں ۔ضرورت کے مطابق ہر چیز کا استعمال کریں ۔بے معنی استعمال سے خود کو بچائیں ۔اپنے وقت کی اہمیت کو سمجھیں ۔زندگی میں سب کچھ کرنے کا موقع آپ کو ملےگا۔مگر زندگی میں دوبارہ اس سکول میں بیٹھ کر آپکو کبھی پڑھنے کا موقع ملے گا؟نہیں ۔ایسا نہیں ہو گا۔اس لیے ضروری ہے کہ جو موقع آپکو ملا ہے اسے ضائع مت کریں ۔کیونکہ زندگی بار بار موقع نہیں دیتی۔
کامیابی کا تیسرا اور سب سے اہم اصول ہے
“انتخاب ”
زندگی میں کچھ حاصل کرنے میں جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے وہ ہے آپ کا انتخاب سے مراد ہے آپکی چوائس۔زندگی میں انتخاب ہی ایسی چیز ہےجو آپکی مرہون منت ہوتی ہے۔ انتخاب ایسا ہوناچاہیئے جو آپکی دلچسی کے مطابق ہو۔جس کو کرنے میں آپ لطف و اندوز ہوں آپکو بوجھ نہ لگے۔
جب آپ اپنی پسندیدہ فیلڈ میں محنت کریں گے تب آپکو کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔کامیابی خود آگے بڑھ کر آپکو گلے لگائے گی۔کسی کو دیکھ کر یا مجبور کرنے پر آپ نے کوئی subject یا فیلڈ choose نہیں کرنی۔اس مضمون کو لیں یا اس فیلڈ کو چنیں جو آپکے مائنڈ سے میچ کرتی ہو ۔اس وقت میں جب آپ کو فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے اگر آپ کوئی غلط فیصلہ کر لیتے ہیں توساری زندگی غلط سمت میں دوڑتے رہیں گے۔جب آپ اپنی دلچسپی کے مضمون پر محنت کریں گے تو آپ کا سفر بہتر سے بہترین کی طرف ہو گا۔لیکن اگر آپ ایسے مضمون کو choose کر لیتے ہیں جو آپکے دوست نے رکھا ہوا ہے۔کچھ عرصہ تو آپ اس کو انجوائے کریں گے مگر بعد میں آپکو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔اور پچتھانا پڑے گا۔اس لیئے ضروری ہے کہ بہترین وقت میں بہترین فیصلہ کریں اس فیصلے کا تعلق آپکے مستقبل سے ہے۔مستقبل کے ساتھ مت کھیلیں ۔آپکی آج کی محنت آپکو مستقبل کا درخشاں ستارہ بنا دے گی۔آپ اپنے آج سے مخلص ہو جائیں آپ کا کل خودبخو سنور جائے گا۔
ایک مسلمان ہونے کی حثیت سے ضروری ہے کہ آ پکا لائف سٹائل اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہو۔خوش اخلاقی، ایمانداری اور سچائی آپ کا اوڑھنا بچھونا ہونا چاہئے ۔اور یاد رکھیں کہ یہی خوبیاں کامیابی کے راستے کی طرف لے کر جاتی ہیں۔وقت کی پابندی اور اس کا صیح استعمال ہی کامیاب زندگی کا ضامن ہے۔آپ اپنے آقا(SAWW)کی سیرت پڑھ کر دیکھ لیں ۔انکی زندگی آپ کے لیے مشعل راہ ہے۔صبر اور حوصلے کے ساتھ ہر پریشانی کا مقابلہ کیا۔دونوں جہاں کے سر دار تھے چاہتے تو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ سکتے تھے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔کیو نکہ یہ دنیا عالم اسباب ہے۔اس دنیا میں رہنے کے کچھ اصول ہیں۔ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ہمیں کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔وقت کا پابند ہونا۔سچا ہونا۔ ایماندار ہونا۔صبر کرنے والا اور محنت کرنے والا ان سب باتوں پر عمل کر کے ہی کوئی شخص زندگی میں کامیاب ہونے کا ٹائٹل حاصل کر سکتا ہے ۔
ایک کامیاب انسان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اتنی کامیابیاں کیسے حاصل کی۔اس شخص نے جواب دیا ۔۔۔درست انتخاب سے ۔
پھر پوچھا کہ درست انتخاب کیسے کیا؟
اس شخض نے جواب دیاکہ درست انتخاب تجربے سے حاصل ہوا۔
اور تجربہ کہاں سے حاصل ہوا؟
اس شخص نے جواب دیاکہ غلط انتخاب سے ۔
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ غلط انتخاب سے صرف تجربہ ہی حاصل ہوتا ہے۔اگر تجربہ کامیاب ہو گیا تو ٹھیک ورنہ

پچتھاوا۔پچھتاوا سے بچنے کےلئے ضروری ہے درست انتخاب ۔

(کالم نگار: محمد شہروزرشید )

About Muhammad Shahroze Rashid

Check Also

خصائص و کرامات امیر المومنین حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

خصائص و کرامات امیر المومنین حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ چہارم جانشین …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں