Home / ہمارا شہر / اسلام آباد / وزیراعظم عمران خان کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی

وزیراعظم عمران خان کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی

اسلام آباد (کلک نیوز): وزیراعظم عمران خان کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ تفصیلات کے مطابق فردوس اعوان کو سابق وزیراعظم ںواز شریف کی ضمانت کے بعد مبینہ طور پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سمن بھجوا کر طلب کیا گیا تھا۔
آج صبح فردوس عاشق اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا آپ وزیراعظم کی معاون خصوصی ہیں ؟ وزیراعظم عدلیہ بحالی مہم میں پیش پیش تھے، 2 وجوہات کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا، وزیر اعظم ہمیشہ رول آف لا کی بات کرتے ہیں، آپ نے زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، آپ نے عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی، میرے بارے میں جو کہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے معاملے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ آپ میرے اور عدالت کے بارے میں بات کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جب عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں گے تو وہ توہین عدالت ہے۔عدالت نے کہا آپ سے ہرگز یہ امید نہیں تھی، ہائی کورٹ کے رولز پڑھ کر سنائیں جس پر فردوس عاشق اعوان نے ہائیکورٹ کے رولز پڑھ کر سنائے کہ چھٹی کے روز بھی کیس سنا جاسکتا ہے، چیف جسٹس کی غیر موجودگی، سنیئر جج فوری نوعیت کا کیس سن سکتے ہیں۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا وزارت قانون نے نہیں بتایا تو ان وکلا سے پوچھ لینا تھا، مجھے اپنے ججز پر فخر ہے، ایک سال میں ریکارڈ کیسز نمٹائے، جس طرح آپ نے ہرزہ سرائی کی کہ کاش عام آدمی کے لیے بھی عدالت لگے، ہم تو بیٹھے ہی عام لوگوں کے لیے ہیں۔ جس پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ کہ جن چیزوں سے لاعلم تھی وہ مجھے بتایا، میں آپ کی ذات کو جانتی ہوں اگر میرے الفاظ کی وجہ سے عدالت کی توہین ہوئی ہے تو معافی مانگتی ہوں ۔
فردوس عاشق اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ میں آئندہ احتیاط کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں دانستہ طور پر عدالت کی توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ ایک اہم حکومتی عہدے پر بیٹھی ہیں، آپ کابینہ کی رکن ہیں یہ عدالت آپ کو نوٹس نہیں کرنا چاہتی تھی، عدالتی فیصلوں پر لوگوں کو اعتماد ہے جب کابینہ اس اعتماد کو توڑے گی تو نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔
جج نے ریمارکس دیے کہ جب قیدی تشویشناک حالت میں ہو تو یہ عدالت کیس سننے کا اختیار رکھتی ہے، کیا آپ کو وزیر قانون نے نہیں بتایا ہے کہ یہ عدالتی استحقاق ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ ہتک کر رہی تھیں کہ عام آدمی کے لئے کچھ نہیں ہو رہا، یہ عدالت بیٹھی ہی عام آدمی کے لیے ہے، ہم اپنے حلف کے پابند ہیں اور اللہ کو جواب دینا ہے۔بہتر ہوتا آپ سیاست کو عدلیہ سے الگ رکھتیں، آپ ایک عام شخصیت نہیں، وزیراعظم کی معاون ہیں، کیا آپ کبھی ڈسٹرکٹ کورٹ گئیں ؟ صدر بار ایسوسی ایشن آپ کو ضلعی عدالتوں کا دورہ کرائیں، کبھی انتظامیہ کو ان عدالتوں کا خیال نہ آیا، ان عدالتوں میں عام لوگوں کے کیسز ہوتے ہیں، جا کر دیکھیں کچہری میں ججز کے لیے ٹوائلٹ تک نہیں، ہمارے فیصلے بولتے ہیں، وہی لوگوں کا اعتماد ہے، ہمارے فیصلے سے آدھے لوگ خوش ہوتے، آدھے ناراض ہیں۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ کبھی کوئی کہتا ہے ڈیل ہو گئی ہے، آپ حکومت کی ترجمان ہیں آپ کا ہر لفظ نپا تلا ہونا چاہئیے۔۔ جس پر فردوس عاشق اعوان نے کہا آپ کا عدلیہ تحریک میں بڑا کردار ہے، جس پر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا اُس بات کو آپ رہنے دیں یہاں۔ بعد ازاں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ انتظار کریں ہم توہین عدالت کے نوٹس پر فیصلہ جاری کریں گے۔ جس کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کی معافی قبول کر لی۔

About admin

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں