Home / اہم خبریں / وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو کسی سازش کی کیا ضرورت

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو کسی سازش کی کیا ضرورت

گلگت رپورٹ کلک نیوز رپورٹر سے ۔۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو کسی سازش کی کیا ضرورت ہی بھارتی میڈیا فضل الرحمن کو دکھا دکھا کر خوش ہورہ اہے ، ایسا لگتا ہے مولانا بھارتی شہری ہیں اور بھارت کیلئے کوئی ملک آزاد کر نے آرہے ہیں ،جس طرح ووٹ لینے اور پیسے بنانے کے کیلئے اسلام کو استعمال کیا جاتا ہے یہ اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے،وہ دن چلے گئے جب یہ اقتدار لینے کے لیے مذہب کو استعمال کرتے تھے ،جتنی مرضی دیر آپ نے بیٹھنا ہے بے شک بیٹھیں ، آپ کو این آر او نہیں دوں گا۔
جمعہ کو یہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے ساتھ آزادی کا جشن منا رہے ہیں ایک مارچ اسلام آباد میں بھی ہو رہا ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ لوگ کس سے آزادی لے رہے ہیں اس مارچ میں پیپلزپارٹی والوں سے جب بات کریں گے تو وہ کہیں گے مہنگائی زیادہ ہے مارچ میں مسلم لیگ (ن) کے لوگ بھی شامل ہیں لیکن ان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ مارچ میں کیا کررہے ہیں۔
جے یو آئی والوں سے پوچھے تو وہ کہیں گے کہ یہودیوں نے قبضہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودی سازش کی ضرورت نہیں ،ہندوستان کا میڈیا یہ سارے مناظر دکھا رہا ہے اور خوش ہو رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ فضل الرحمن پاکستانی نہیں بھارتی شہری ہے اور ہندوستان کے لئے کام کررہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ووٹ اور پیسے کیلئے اسلام کا نام استعمال کیا جاتا ہے اس طرز عمل سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہے۔وہ لوگ جنہیں ابھی اسلام کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہے جب وہ مولانا فضل الرحمن کو دیکھتے ہیں تو اسلام سے متنفر ہو جاتے ہیں،ان کا اسلام ڈیزل کے پرمٹ ‘کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ اور پیسے پر بک جاتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام باشعور ہو چکے ہیں یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔
ہمارے اور ان کے دھرنے کے مقاصد میں فرق ہے آج جو گلدستہ اکٹھا ہو گیا ہے اس میں بلوچستان سے اچکزئی صاحب بھی آئے ہیں جنہوں نے ساری عمر جے یو آئی کی مخالفت کی ہے۔اس میں بلاول بھٹو بھی موجود ہیں جو اپنے آپ کو لبرل کہتا ہے، وہ لبرلی کرپٹ ہے لبرل ازم ان کے پاس سے نہیں گزری۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام وہ ہے جب آپ کا عمل مسلمانوں کی طرح ہو ‘ قرآن میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمن اسلام کی بات کرتے ہیں اور قیمت ضمیر کی لگاتے ہیں ‘ اقتدار کے لئے اسلام کا نام لینے کا دور چلا گیا ہے آپ بے شک بیٹھ جائیں‘ جب کھانا ختم ہو گا وہ بھی بھجوا دیں گے لیکن کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اصل بات یہ ہے بدعنوانی کے سارے کیسز ہمارے سامنے آچکے ہیں سب کو ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کی باری آنی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے 10سالوں میں چار گنا زیادہ قرضہ اس پر چڑھایا۔
60 برسوں میں پاکستان 6ہزار ارب ڈالر کا قرضہ تھا پچھلے 10 سالوں میں اسے 30 ہزار ارب تک پہنچایا گیا ‘ قوم یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے یہ قرضہ کہاں خرچ ہوا‘ جیسے جیسے وقت گزر رہا حکومت کو پتہ چل رہا ہے کہ پیسہ کدھر گیا ہے زیادہ تر پیسہ ان کی جیبوں میں چلا گیا ہے۔ان لوگوں نے ہنڈی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ باہر بھیجا ان کے بچے ارب پتی ہوگئے ہیں۔
تین بار وزیراعظم رہنے والے کے بیٹے ارب پتی ہیں جب ان سے حساب پوچھوں تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ کے والد کی سائیکل کی دکان تھی آج وہ اور ان کے بچے ارب پتی ہیں ‘ شہباز شریف کا بیٹا اور داماد ملک سے باہر ہیں۔اگر انہوں نے چوری نہیں کی تو یہ باہر کیوں بیٹھے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے 10ماہ سپریم کورٹ میں اپنے فلیٹ کا سارا حساب کتاب اور منی ٹریل بھی دی اس کے برعکس ان لوگوں نے آج تک کوئی ایسی مصدقہ دستاویز نہیں دی جس میں جعل سازی نہ ہو۔
جب ان سے حساب مانگا جاتا ہے تو جمہوریت کو خطرہ ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومتوں کے پہلے سال سب سے پہلے مہنگائی پیپلزپارٹی کے دور میں تھی اس کے بعد (ن) لیگ کے دور میں زیادہ مہنگائی ہوئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے 22سال بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ میں دبائو میں آئوں گا اور انہیں این آر او دے دو گا یہ ان کی بھول ہے۔
ان چوروں نے ملک کو جو نقصان پہنچایا میری جدوجہد ان کے خلاف تھی میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ جن لوگوں نے اس ملک کو لوٹا اورملک کو بیروزگاری اور دیگر مسائل سے دوچار کیا انہیں جیلوں میں بھجوا دوں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدعنوانی سے ملک اور معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں جو پیسہ صحت ‘ تعلیم ‘ سڑکوں کی بہتری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر لگانا چاہیے وہ بدعنوانوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔
قومیں تب اٹھتی ہیں جب انسانوں اور انسانی وسائل کی ترقی پر خرچ کیا جائے۔پیسہ اس لئے نہیں ہوتا کہ یہ سارے مل کر چوری کریں اور پیسہ باہر بھیجیں ‘ جب پیسہ ملک سے غیر قانونی طریقے سے باہر جاتا ہے تو روپے کی قدر گر جاتی ہے اور مہنگائی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے لئے سب سے پہلے اداروں کو تباہ کیا جاتا ہے کیونکہ اداروں کو تباہ کئے بغیر بدعنوانی ممکن نہیں ہوتی۔
نائجیریا اور کانگو میں وسائل موجود ہیں لیکن کرپشن کی وجہ سے وہ بری طرح سے مسائل کا شکار ہیں ‘ اس کے برعکس سوئٹزر لینڈ میں وسائل نہیں لیکن ملک ترقی یافتہ ہے کیونکہ وہاں پر کرپشن نہیں ہے ‘ وزیراعظم نے کہا کہ سارے بے روزگار اور سیاسی یتیم اکٹھے ہو گئے ہیں ان کا مقصد صرف اپنے آپ کو بچانا ہے ان کو پتہ ہے کہ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے انہیں جیلوں میں پہنچانا ہے۔
ان چوروں کی وجہ سے ملک اس حالت کو پہنچا ہوا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت نے جتنا ٹیکس اکٹھا کیا ان کا آدھا حکومت نے ماضی میں لئے گئے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی پر خرچ کیا ۔اس صورت میں ہم تعلیم اور صحت پر کس طرح خرچ کرسکتے ہیں جب تک بدعنوانوں کو سزائیں نہیں ہوں گی ‘ مثال نہیں بنیں گے ‘ جیلوں میں نہیں جائیں گے تو ہم ترقی نہیں کرسکیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ڈوگرہ راج سے آزادی کی خوشی کی تقریبات میں وہ ان کے ساتھ شریک ہیں یہاں کے بہادر‘ دلیر اور باشعور عوام نے ڈوگرہ راج کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اور اس میں کامیاب ہو کر کامیابی حاصل کی۔ میں آزادی کی اس جنگ میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ پہلی دفعہ 52 سال قبل گلگت بلتستان آئے اور وہ یہاں کے چپے چپے سے واقف ہیں۔پاکستان کا کوئی بھی سیاستدان گلگت بلتستان کو نہیں جانتا جتنا میں جانتا ہوں‘ میں یہاں کے مسائل سے بھی آگاہ ہوں ‘ مجھے پتہ ہے کہ سردیوں میں یہاں کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ماضی میں یہ علاقہ پیچھے رہ گیا تھا لیکن میں گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے مسائل پر توجہ دی جائے گی۔
موجودہ حکومت گلگت بلتستان کے مسائل کے حل پر وہ توجہ دے گی جو ماضی کی حکومتوں نے نہیں دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اہم سیاحتی مقامات ہونے کے باوجود یہاں پر اس شعبہ میں جو ترقی ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہو سکی۔گلگت بلتستان رقبے کے لحاظ سے سوئٹزر لینڈ سے دو گناہ زیادہ ہے۔ سوئٹزر لینڈ سیاحت کے شعبہ میں جتنا ریونیو حاصل کرنا ہے وہ پاکستان کے بجٹ سے زیادہ ہے۔
کیونکہ وہاں پر بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات میسر ہیں ‘ وہاں پر سکینگ ریزاٹ ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے دنیا میں بیشتر ممالک دیکھے ہیں گلگت بلتستان میں جس طرح کی سکینگ ہو سکتی ہے دنیا کے کسی ملک میں اس سے بہتر جگہ نہیں ہے ہمارے پاس سہولتیں نہیں ہیں ‘ موجودہ حکومت اس حوالے سے پوری منصوبہ بندی کررہی ہیں۔باہر کے ممالک سے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
تا کہ یہاں پر بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری ہو سکے اس کے ساتھ ساتھ خدمات کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے بھی کام کررہے ہیں تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو مطلوبہ تعلیم اور مہارت کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔بڑے بڑے ہوٹلوں کو یہاں پر سرمایہ کاری کے لئے لایا جارہا ہے اس سے علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور یہاں کے نوجوانوں کو نوکری کے لئے باہر نہیں جانا پڑے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ان کی گلگت بلتستان کی کابینہ سے ملاقات ہوئی ہے جن منصوبوں پر بات کی گئی ان میں سے بیشتر کے لئے فنڈز دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں ۔ باقی منصوبوں کے لئے فنڈز کی فراہمی کے لئے ڈونررز تیار کریں گے انہوں نے کہا کہ سردیوں میں یہاں کے باسیوں کو بجلی کی فراہمی کو ممکن بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبہ کی ایک کمپنی پھلوں کی پراسیسنگ پلانٹ لگا رہی ہے اس سے مقامی پھلوں کو زیادہ عرصے تک محفوظ بنایا جا سکے گا۔ پاکستان کی ترقی کے لئے حکومت اس علاقے کی ترقی کو ترجیح دے گی انہوں نے یوم آزادی پر گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد دی اور ان کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔

About admin

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں