Home / اہم خبریں / پیمرا کی طرف سے لگائی گئ پابندی پر حکومتی موقف سامنے آگیا

پیمرا کی طرف سے لگائی گئ پابندی پر حکومتی موقف سامنے آگیا

لاہور(میاں صدیق کلک نیوز سے)
وفاقی معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ٹی وی اینکرز پر تجزیوں، تبصروں پرکوئی پابندی نہیں لگائی، اینکرزاور صحافی جہاں چاہیں تجزیے اور تبصرے کرسکتے ہیں، پیمرا کا ہدایت نامہ عدلیہ کے حکم پر ہے، جو عدلیہ سے متعلق پروگراموں پر پابندی متعلق ضابطہ اخلاق کے تحت جاری کیا گیا۔
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ کسی اینکریا صحافی کو دوسرے ٹی وی چینلز پر تجزیوں اور تبصروں سے نہیں روکا گیا۔ تمام اینکرز اور صحافی جہاں چاہیں جس چیز پر بھی چاہیں تبصرے اور تجزیے کرسکتے ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا کے ہدایت نامے کا اطلاق عدلیہ سے متعلق فیصلوں پرہوتا ہے۔
عدلیہ کے فیصلوں پر تمام میڈیا کو ضابطہ اخلاق کوملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔

پیمرا کا ہدایت نامہ عدلیہ کے حکم پر جاری کیا گیا ہے۔ لہذا اس سے متعلق پروگراموں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب اینکرز اور صحافیوں کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پیمرا کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے۔ پیمرا کی نئی پابندی آئین میں دیے گئے آزادی اظہار پر قدغن اور جابرانہ اقدام ہے۔ صحافیوں اور اینکرز حضرات نے پیمرا کی نئی پابندی کو آمرانہ قراردیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
یہ پیمرا کا دائرہ کارنہیں کہ وہ طے کرے کہ ٹی وی پروگرام میں کون مہمان، تجزیہ کار یا ماہر ہوگا۔ ریاست کا اس بات سے کچھ لینا دینا نہیں کہ کون تجزیہ کار معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اینکرز نے کہا کہ پیمرا کا نیا نوٹیفکیشن تنقید اور اختلافی رائے کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ ان اقدامات کا تسلسل ہے، جس کے تحت میڈیا، رائٹرز کو قومی مفاد کے نام پرپابند کیا جا رہا ہے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر صحافت پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ ان لڑائیوں میں ہم نے اپنے ساتھیوں کی جانیں کھو دی ہیں۔ بےروزگاری، خطرات اور مشکلات کا سامنا بھی کیا ہے۔ ہمیں پتا ہےآزادی صحافت کیلئے کیسے لڑنا ہے۔ اینکرز اور صحافیوں نے کہا کہ ہم آمریتوں اورجمہوریت کی بحالی کیلئے دہشتگردی اورانتہاء پسندی سے لڑے ہیں۔
ہم ان پابندیوں کی مزاحمت کریں گے اور ان کے خلاف لڑیں گے۔ منتخب حکومت اپنے زیر تحت ہر ادارے کے اقدامات پرآئینی طور پر جوبدہ ہے۔ منتخب حکومت اپنے زیر تحت ہر ادارے کے اقدامات پرآئینی طور پر جوابدہ ہے۔ ایسی پابندیوں کے خلاف ملکی اور بین الاقومی سطح پر بھی مہم چلائیں گے۔ ہم اپنے اختلاف رائے کے حق تحفظ کے لیے ہرحد تک جائیں گے۔ جوبھی اس کے پیچھے ہو۔ ہم عمران خان کی زیرقیادت پی ٹی آئی حکومت کواس کا ذمہ دارٹھہرائیں گے۔ اختلاف رائے جمہوریت کی بقاء کے لیے لازم ہے۔

About admin

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں