Breaking News
Home / اہم خبریں / ٹیکس پرسودے بازی نہیں کرینگے، معیشت بحران سے نکل کراستحکام کی جانب گامزن، نجکاری کےعمل میں تیزی،10نئی کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہارات دے دیئے،معاشی ٹیم

ٹیکس پرسودے بازی نہیں کرینگے، معیشت بحران سے نکل کراستحکام کی جانب گامزن، نجکاری کےعمل میں تیزی،10نئی کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہارات دے دیئے،معاشی ٹیم

اسلام آباد ( کلک نیوز، خبرایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم کا کہنا ہےکہ ٹیکس پر سودے بازی نہیں کرینگے، معیشت بحران سے نکل کر معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے۔

عبد الحفیظ شیخ کی شبر زیدی کے ہمراہ ملکی معاشی صورتحال پر میڈیا کو بریفنگ

انہوں نے کہا کہ 10کھرب روپےنان ٹیکس آمدنی ہوگی، نجکاری کے عمل میں تیزی لارہے ہیں، 10نئی کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہارات دیدیئے، نیشنل بینک اور اسٹیٹ لائف کو فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن میں شامل کر سکتے ہیں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے گردشی قرضوں میں کمی لا رہے ہیں، کرنٹ خسارے میں73فیصد کمی، زرمبادلہ کے ذخائراور روپے کی قدر مستحکم، موبائی کمپنیوں سے 200ارب وصول ہونگے، بجلی کی چوری میں کمی واقع ہوئی،20اداروں کی تشکیل نو ہوگی۔

صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں، مہنگائی چیلنج ہے، اقتصادی شرح نموکا 2.4فیصد ہدف حاصل کرلیں گے، آئی ایم ایف کا وفد آج معمول کے دورے پر پاکستان آئیگا ، اے ڈی بی اور ورلڈ بینک سے بھی قرضوں پر بات جاری ہے، کاروباری افراد کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن ٹیکس کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

گزشتہ روز مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کے ہمراہ ملکی معاشی صورتحال پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ حکومت بنی تو ملک کی معاشی حالت بری تھی، ہم اقتصادی طور پر دیوالیہ ہونے جا رہے تھے، ہماری ایکسٹرنل معاشی حالت بہت بری تھی، ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے ہمیں بہت سے اہم اقدام اٹھانا پڑے۔

ہم نے اپنے دوست ممالک سے تعاون پروگرام طے کئے اور ملک میں ڈالر ریزرو کو سنبھالا، ہماری کوشش تھی کہ عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے، ہم نے کابینہ اور حکومت کے اخرجات میں کمی ،دفاعی بجٹ کو پرانی جگہ پر منجمد کیا ،ہم نے ریونیو کے لئے 5ہزار 500ارب روپے کا ٹارگٹ رکھا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم زیادہ ٹیکس اکٹھا کریں تاکہ ہمارا باہر کی دنیا پر انحصار کم ہو، ہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے 19ارب روپے سے ساڑھے 13ارب پر لائے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ جولائی میں ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا اور امپورٹس میں کمی لائی گئی جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.1 بلین سے 0.6بلین پر آگیا، ہم نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73فیصد کمی کی تاکہ ہمارا ملک مستحکم ہو اور ہمارے ریزرو بہتر ہوں، یہ عوام کے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا امیر طبقہ ٹیکس نہیں دیتا ہماری کو شش ہے کہ ٹیکس نظام کو بہتر بنائیں، اس کےلئے ہم نے اہم ٹارگٹ سیٹ کئے ہیں، گزشتہ سال پہلے 2مہینوں میں 509ارب روپے ٹیکس جمع کئے گئے تھے جبکہ ہم نے 580ارب روپے ٹیکس جمع کئے جو پہلے سے 15 فیصد زیادہ ہے ، ڈومیسٹک ٹیکس ریوینومیں 38 فیصد اضافہ ہواہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس فائلر 19 لاکھ تھے جنہیں ہم نے 25 لاکھ تک بڑھایا، ہم اس 6 لاکھ کے اضافہ کو مزید بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ریفنڈ دیئے جائیں ہم نے 22 ارب روپے ٹیکس ریفنڈ کی مد میں ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم نے 23 اگست سے پروگرام شروع کیا ،اب ایکسپورٹرز کے 100 فیصد ٹیکس ریفنڈ ہوں گے،جو ہر مہینے کی 16تاریخ کو آگے بھی ریفنڈز ہوتے رہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جو چیزیں ملک میں بہتر انداز میں نہیں چل رہی ان کو بہتر کیا جائے اس کے لئے دو اہم فیصلے کئے ہیں ایک جو ادارے پبلک سیکٹر نہیں چلا سکتا وہ نجی سیکٹر کو دئیے جائیں ،اس کے لئے نجکاری کے عمل میں بہتری لائی گئی، اس کے لئے 10 کمپنیاں نجکاری کیلئے چنی گئی ہیں ہماری کوشش ہے کہ اس عمل کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔

مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا کہ ہم نے سرمایہ پاکستان ادارے کو ایکٹو کیا ہے اور 20 کمپنیوں کو چنا ہے جن میں تیز رفتار ری اسٹرکچرنگ ہو گی، بجلی کی ڈسٹربیوشن کمپنیوں کو بھی نجکاری کیلئے پیش کیا جائےگا۔ نیشنل بینک اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی بھی نجکاری کا سوچا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ بجلی کے گردشی قرضوں میں کمی لارہے ہیں، ہر ماہ 38 ارب گردشی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے ، ہم اس پر بھی قابو پارہے ہیں، ہم نے ایک سو ارب روپے کی بجلی چوری پر قابو پایا ہے جو کہ اہم اقدام ہے جس سے عوامی پیسے کی چوری کو کم کیا گیا ہے۔

ہم نے اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا کیونکہ اس لئے مہنگائی بڑھتی ہے نہ ہی ہم نے سپلیمنٹری گرانٹ منظور کرائی، جولائی میں حکومتی خسارہ 2070 ارب روپے تھا ہم نے اس میں بھی کمی کی، ملکی ترقی کا ٹارگٹ 2.4 فیصد ہے ہم اس کو بہت آسانی سے حاصل کر لیں گے اوراس سے بھی آگے جائیں گے۔

زرعی انقلاب کیلئے ہم نے 250ارب روپے منظور کر لئے ہیں جس سے ہماری پیداوار بڑھے گی، گزشتہ5سال میں زراعت میں اضافہ ہوا ہمیں توقع ہے کہ اس میں 3فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت بحران سے نکل کر استحکام کی جانب ہے، ہمارے فارن ریزرو اور ایکسچینج ریٹ بہتر ہوئے ،اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آ رہی ہے، ملک کی آمدنی بڑھانے کیلئے اچھے اقدامات کئے گئے ہیں، اس کے لئے سیلولر کمپنیوں کے لائسنس کے اجراء میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے اس مد میں 70 ارب روپے جاز اور ٹیلی نار سے حاصل کئے ہیں اور 70ارب مزید حاصل کریں گے، زونگ سے بھی 70 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، اس سے200ارب روپے آمدنی ہو گی۔

آر ایل این بھی پلائٹس کی پرائیویٹائزیشن اس سال دسمبر میں ہو گی، اس میں بھی 300ارب روپے آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اگر ہمارا ایکسچینج ریٹ بہتر رہا تو اسٹیٹ بینک کی آمدنی میں 400 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے۔ پرائیویٹائزیشن اور نان ٹیکس ریونیو کو ملا کر ہمیں1000 ارب روپے حاصل ہونگے ،اس سے حکومت کو فائدہ ہو گا اور عوام کی بہتری کیلئے بھی اقدامات کیے جائیں گے، تاجر اگر بزنس کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں لیکن ٹیکس کے معاملے میں کوئی سودے بازی نہیں ہو گی، ہم نے پٹرولیم مصنوعات میں کمی کی ، ہم نے مہنگائی کو کم اعشاریوں پر روکا ہوا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری آ رہی ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا پروگرام اچھا چل رہا ہے۔

عبد الحفیظ شیخ نے کہا کہ ورلڈ بینک اور دوسرے ادارے بھی آگے بڑھ رہے ہیں ان تمام چیزوں کا ملکی معیشت پر اچھا اثر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام پر امید رہے یہ مشکل فیصلے انہی کیلئے کئے جا رہے ہیں، بہت جلد ان کے اچھے اثرات سامنے آئیں گے، مہنگائی کے جن کو قابو کرنا ہمارے لئے ایک چیلنج ہے ، حکومت کی سب سے بڑی کوشش ہے کہ مہنگائی کو کم کیا جائے، جو مہنگائی بڑھنے کی توقع تھی اس وقت مہنگائی اس سے کم ہے،ہم نے بیرونی ممالک سے آنے والے خام مال پر ٹیکس ڈیوٹی میں کمی کی ہے تاکہ مہنگائی نہ بڑھے۔

ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جیسے ہی عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں گی عوام کو اس کا فائدہ دیا جائے گا اور یہاں بھی قیمتیں کم کی جائیں گی۔ پٹرولیم کی قیمتیں بھی کم ہونگی تو اس کا بھی فائدہ عوام کو دیا جائے گا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے کا کہنا ہےکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایس او ایس مشن کی پاکستان آمد پر بجٹ اہداف کے حصول میں معاونت اور معاشی اصلاحات پر تجاویز ایجنڈے کا حصہ ہیں، مالیاتی ادارے کے وفد کو ٹیکس آمدن پر بریفنگ دی جائے گی۔

آئی ایم ایف کا ایس او ایس مشن آج پاکستان آئے گا، مشن وزارت خزانہ کے حکام سے مشاورت کرے گا، ایس او ایس مشن کی سربراہی آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر جنوبی اور وسطی ایشیا جہاد اظہور کریں گے، وفد معاشی، ٹیکس اور توانائی اصلاحات پر مشاورت کرے گا جبکہ آمدن بڑھانے اور اخراجات میں کمی کے لیے بھی مختلف تجاویز پر غور ہوگا۔

About clicknewslive

Check Also

مسلم لیگ ن نے دھماکہ کردیا

مسلم لیگ ن نے جے یو آئی کے آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ کر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں