Breaking News
Home / اخبار / سپریئر جوڈیشری نوٹس لے ، ناصر بٹ کو شامل تفتیش کرے،تجزیہ کار

سپریئر جوڈیشری نوٹس لے ، ناصر بٹ کو شامل تفتیش کرے،تجزیہ کار

کراچی(کلک نیوز) حتساب جج کی جانب سے پریس ریلیز کافی دیر سے جاری کی گئی فوری طور پر تردید کرنا چاہیے تھی تیسری ٹیپ بھی ہے بہرحال معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے مریم نواز کہہ سکتی ہیں کہ جس طرح دباؤ پر فیصلہ دیا تھا اُسی دباؤ پر یہ پریس ریلز جاری کی گئی ہے جج صاحب کی پریس ریلز اتنی اہم نہیں ہے ان کی تردید سے یا پریس ریلز سے معاملہ ختم نہیں ہوگا سپریر جوڈیشری کو نوٹس لے جج ارشد ملک، ناصر بٹ کو شامل تفتیش کرےرشوت کا الزام لگا کر وہ خود پھنس گئے ہیں اگر اُن کو کسی نے ٹرائل کے دوران رشوت کی پیشکش کی ہے تو پھر ان کو اسکا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ کس نے کہاں پر کتنی رشوت کی پیشکش کی اور انہوں نے کیسے ٹھکرایا جب یہ پیشکش کی گئی تو متعلقہ حکام کو بتایا اگر بتایا تو بہت اچھا کیا اگر نہیں بتایا تو اس کی انکوائری ہونی چاہیے کہ کیوں نہیں بتایا لگتا ہے جج کی تردید کے بعد ویڈیو کا وہ پورشن سامنے آئے گا جو ابھی تک نہیں آیا اگر وہ سامنے آئے گا تو بڑا مسئلہ ہوگاسنیئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ادارہ پر سوال اٹھ گیا ہے اس کو بچانا ضروری ہے ارشد ملک کے بیان پر جو تعجب کی بات ہے وہ ناصر بٹ سے اُن کی شناسائی ہے جس کے بارے میں کل سے یہ خبریں چل رہی ہیں کہ وہ تو ایک ہسٹری شیٹر ہے اس کے خلاف درجنوں مقدمات قائم ہیں وہ لندن فرار ہوگیا تھا اس کے بارے میں جج خود یہ کہہ رہے ہیں کہ میری اس سے پرانی شناسائی ہے، جج صاحب نے بھی الزامات لگا دئیے ہیں تو انہیں اب یہ بتانا پڑے گاکہ کون سے لوگ تھے جنہوں نے اُن کو رشوت کی پیشکش کی جج کے پاس جو بھی شخص آتا ہے رشوت لے کر جج اس کو اسی وقت جیل بھجوا سکتا ہے اور کچھ نہیں تو چیف جسٹس پاکستان کو بتانا تھا اور اگر دھمکی آئی تھی تو وہ اور سنجیدہ بات ہے اور اس کے بعد متعلقہ اداروں کو الرٹ کرنا چاہیے تھا کہ سیکورٹی کا انتظام ہو جو نہیں ہوئیں یہ ایک تنازعہ ہے اور اس کا حل یہی ہے کہ اس کی غیر جانبداری کے ساتھ تحقیقات ہوں اگر چیئرمین نیب کے تنازعہ کی تحقیقات ہوتیں اور منتقی انجام تک پہنچا دیا جاتا تو آج یہ تنازعہ نہیں کھڑا ہوتا ۔ ارشد ملک اگر متنازعہ بھی ہوجائیں گے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نوازشریف بری الزمہ ہوگئے ہیں۔سنیئر صحافی ارشاد بھٹی نے کہا کہ چیف جسٹس کھوسہ اس کی تحقیق کریں تو اچھا ہے فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے اتنی لیکس ہوگئی ہیں سب کی تحقیقات ہونی چاہیے مسلم لیگ نون نے جج بشیر کی بجائے جج ارشد ملک سے خود رخواست کر کے کیس منتقل کروایا تھا اگر جج صاحب رشوت دینے والوں کے نام لکھ دیتے تو کیا ان لوگوں نے مان جانا تھا کوئی مانا ہے آج تک پانام لیکس مانا ہے آج تک یہاں تو سارے معصوم ہیں ڈیلی میل لندن میں نواز شریف کو کیا کہا گیا تھا نون لیگ والے اس اخبار پر کیس کر دیں وہاں تو اسٹیبلشمنٹ بھی نہیں ہے فوج بھی نہیں ہے سازش بھی نہیں ہوگی وہاں ارشد ملک بھی نہیں ہیں یہ صرف باتیں ہیں اور کچھ نہیں ہے مریم نواز کو کس نے روکا تھا پوری ویڈیو نہ لانے پر رہنما مسلم لیگ نون مریم اورنگزیب نے کہا کہ پریس ریلیز بتاتی ہے کہ جج صاحب مظلوم تھے اور مظلوم ہیں مریم نواز نے جو باتیں کیں جج نے اس کی توثیق کی ہے جج نے کہا کہ میرا ناصر بٹ اور ان کے بھائی کے ساتھ پرانا تعلق ہے تو یہ کوئی دباؤ سے ویڈیو نہیں بنیں جوڈیشری کو ایکشن لینا چاہیے جنہوں نے رشوت دی دھمکیاں دیں ان کے نام بھی پریس ریلیز میں لکھ دیتے جج صاحب کو چاہیے پارٹی نہ بنیں بار بار اُن پر دباؤ ڈال کر اس طرح کی چیزیں کروائی جائیں گی اگر آپ نے اس پر ردِ عمل بھی دینا ہے تو کسی فورم پر کریں پریس ریلیز مزید مذاق اڑاتی ہے انصاف کے عمل کا، ویڈیو میں ملوث جج صاحب خود ہیں قانونی چارہ جوئی ان کے خلاف ہونی چاہیے یہ ہمارا موقف ہے پریس ریلیز دباؤ میں لکھوائی گئی ہے کس نے اور کیوں لکھوائی ہے گورنمنٹ اس کی ٹھیکے دار بننے کی کوشش نہ کرے گورنمنٹ خود پارٹی ہے اس میں اگر کوئی مسئلہ ہے تو فرانزک کرائے۔ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب شہبازگل نے کہا کہ جھوٹ گھڑنا ن لیگ کا پرانا وطیرہ ہے قطری خط کی شکل میں بھی جھوٹ کی کوشش کی گئی دو سال ملے تھے انہیں منی ٹریل دینے کے لئے اگر دے دیتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا آج بھی ان کے پاس وقت ہے آج بھی یہ منی ٹریل دے دیں اور گھر چلے جائیں منی ٹریل نہیں دینی تو لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں پھر ان کی جان بچے گی اس طرح کے ڈراموں سے عوام بیوقوف نہیں بنے گی مریم صفدر خود ہی کل مان رہی تھیں کہ یہ فیبریکیٹڈ ہے ویڈیو کہیں آڈیو کہیں بنی نون لیگ کی سنیئر لیڈر شپ ان کے ہاتھوں ہائی جیک ہوچکی ہے مریم نواز کو جال سازی میں پہلے بھی سزا ہوچکی ہے اور وہ مجرم ثابت ہوئی ہیں تو ان کی نئی باتوں پر یقین کرنے پر دنیا کی بہت سے عدالتیں سوال اٹھائیں گی۔معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ جج کی ذات کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جج کے اوپر اٹیک کرنا پھر ان کی طرف سے ردِ عمل بھی آنا تھا جہاں تک ناصر بٹ سے تعلق کا اقرار ہے سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ جوڈیشری کے اندر کیا کوٹ آف کنڈیکٹ ہے کہ انہیں کن لوگوں سے ملنا چاہیے کن سے نہیں ملنا چاہیےٹرائل کے دوران اگر جج رشوت کے حوالے سے رپورٹ کرتے تو انہیں سنیئر جوڈیشری کو رپورٹ کرنا تھا کسی حکومتی نمائندے کو رپورٹ نہیں کرسکتے آڈیو ویڈیو کے مزید حصے کی بات دھمکی نظر آرہی ہے اگر اس قسم کی چیزیں ہیں تو سب کو ایک ساتھ متعلقہ فورم میں لایا جائے یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے یہ لاء مینسٹری کا ڈومین ہے وہ اس کو ٹیک اپ کرے گی اور جو بھی وہ سفارشات رکھے گی اس پر بھی مشاورت ہوگی اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ماہر قانون وتجزیہ کار منیب فاروق نے کہا کہ یہ معاملہ احتساب عدالت کے جج سے متعلق ہے یہ حکومت کے پرویو کے اندر براہ راست آتا نہیں ہے سب سے پہلے جنہیں ایکشن لینا چاہیے وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اگر وہ اس معاملے ایڈمنسٹرٹیولی ٹیک اپ کرتے ہیں وضاحت طلب کرتے ہیں ارشد ملک کی اور جو آج انہوں نے پریس ریلیز دی ہے کہ دباؤ تھا اور رشوت آفر کی گئی دونوں باتوں سے متعلق ارشد ملک سے بھی ثبوت حاصل کیے جائیں گے ان کے پاس کیا شواہد ہیں اور جو شواہد ویڈیو اور آڈیو میں موجود ہیں بہت آسان ہے اس کا فرانزک ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے ۔

About clicknewslive

Check Also

مِیرا کا گانا ’اک پل‘ ریلیز ہوتے ہی مقبول

فلم اسٹار میرا کافلم ’پرے ہٹ لَو‘ کا نیا گانا ’اک پل‘ریلیز ہوتے ہی مقبول …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں