Home / ہمارا شہر / اسلام آباد / قومی اسمبلی میں ہاتھاپائی، فوج پر حملہ کرنے والوں کو معاف نہیں کیاجائے گا،علی محمد خان

قومی اسمبلی میں ہاتھاپائی، فوج پر حملہ کرنے والوں کو معاف نہیں کیاجائے گا،علی محمد خان

اسلام آباد(نمائندہ کلک )وزیرمملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہاہے کہ فوج پر حملہ کرنے والوں کو معاف نہیں کیاجائے گا‘پاکستان میں افرا تفری اور فساد پھیلانے والوں کو اس ایوان میں آنے کا کوئی حق نہیں‘ان کی رکنیت منسوخ کی جائے ‘جو پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کرے گا ہم اس کی جڑیں کاٹ دیں گے‘علی محمد خان کی محسن داوڑ اور علی وزیر خان پر الزام تراشی اور بلاول بھٹوکی جانب سے دونوں ارکان کوایوان میں لانے کے مطالبے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ اور ہاتھا پائی ہوئی‘ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان باہم دست و گریبان ہو گئے‘وزیر مملکت علی محمد خان کے جواب پر اپوزیشن اراکین نے نشستوں پر کھڑے ہوئے کر احتجاج شروع کردیا‘ایم کیو ایم کے اراکین نے کراچی کو پانی دو کے پلے کارڈز لے کر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف جوابی احتجاج شرو ع کردیا جس پر پیپلز پارٹی کے اراکین سید نوید قمر، عبد القادرپٹیل ‘آغا رفیع اللہ اور ایم کیوایم کے اراکین کے درمیان جھگڑا ہوااور
اراکین گتھم گتھا ہو گئے‘آغافیع اللہ و دیگرکی ایم کیو ایم کے رکن عطا اللہ کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی‘ پیپلز پارٹی کے ارکان نے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان سے احتجاجی پوسٹرز چھین کر پھاڑ دیئے ۔ حکومتی جماعتوں کے ارکان نے نعرے لگانے شروع کر دیئے جس پر اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرنے کا صدارتی فرمان پڑھ دیا گیا۔ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد بھی جھگڑا جاری رہا اور دونوں اطراف کے ارکان ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہے۔ جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران جنوبی وزیرستان سے متحدہ مجلس عمل کے رکن مولانا جمال الدین نے محسن داوڑ اور علی وزیر خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے اور ایوان میں لانے کا مطالبہ کرتےہوئے کہا کہ وزیرستان خون میں لت پت ہے‘ حالات کو سمجھیں‘ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں جس پر علی محمد خان نے کہا کہ پاکستان کے پرچم اور اداروں کے خلاف بات کرنے والے لوگوں کو اس ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں‘ایسے ارکان کی رکنیت کو منسوخ کیا جائے‘ایس پی طاہر داوڑ کی نعش افغانستان سے ملی اور نعش بھی پاکستان کے وزیر داخلہ کی بجائے افغانستان نے اپنے آلہ کار، پٹھو اور زرخرید کو دی۔ پاکستان کے مفاد پر سیاست نہ کریں‘ جو بھی پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کرے گا ہم اس کی جڑیں کاٹ دیں گے‘جو شخص پاکستان کے جھنڈے اور دو قو می نظریہ کو نہیں مانتا اس کی ملک میں کوئی جگہ نہیں،پی ٹی ایم کے جلسوں میںپاکستان کے جھنڈے نہیں لانے دیئے جاتے، جن کی وجہ سے فساد پھیلا انہیں ایوان میں رہنے کا کوئی حق نہیں‘ان کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کی لاشیں گریں‘پاکستان میں افراتفری پھیلانے والوں کو ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ وزیر مملکت کی تقریر کے دوران بلاول بھٹو، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ بلاول بھٹو وزیر مملکت سے گرفتار ارکان کو ایوان میں لانے کا سوال کا جواب دینے کا کہتے رہے۔ اس دوران ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے ارکان ہاتھ میں کراچی کو پانی دو، کے پلے کارڈز اٹھا کرا سپیکر ڈائس پر آ گئے اور نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ دوسری طرف سےنوید قمر، آغا رفیع اللہ ودیگر ارکان بھی سپیکر ڈائس پر آ گئے۔ حکومتی جماعتوں کے ارکان کے ہاتھوں سے پلے کارڈز چھین کر پھاڑ دیئے۔ پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اللہ اور تحریک انصاف عطاء اللہ خٹک گتھم گتھا ہو گئے۔ دونوں جماعتوں کے ارکان نے ایک دوسرے کو دھکے دیئے۔

About clicknewslive

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں