Home / اہم خبریں / فوجی افسران کو سزا کا میڈیا پر اعلان کرنا بڑی بات ہے، امجد شعیب

فوجی افسران کو سزا کا میڈیا پر اعلان کرنا بڑی بات ہے، امجد شعیب

کراچی (ٹی وی رپورٹ) نجی ٹی وی کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں ماہر عسکری امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ جاسوسی کے الزام میں فوجی افسران کو سزا کا میڈیا پرا علان کرنا بڑی بات ہے،نمائندہ خصوصی نجی ٹی وی زاہد گشکوری نے کہا کہ نیب 77فیصد کیسوں کو مختلف عدالتوں میں آگے بڑھانے میں ناکام رہا ہے، میزبان محمد جنید نے تجزیے میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت نو ملزمان کی عبوری ضمانت میں دس جون تک توسیع کردی، نیب کو دوران سماعت ججوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ماہر عسکری امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ غیرملکی جاسوسی کے الزام میں فوجی افسران کو سزا کا میڈیا پرا علان کرنا بڑی بات ہے،فوج میں سزا و جزا کا نظام بہت زبردست اور چلتا رہتا ہے، مختلف اوقات میں مختلف قسم کی سزائیں جرائم کی نوعیت کے مطابق دی جاتی رہی ہیں، جاسوسی کے کیس میں لیفٹیننٹ جنرل جیسے بڑے رینک کے افسر کا ملوث ہونا عجوبہ ہے،جاسوسی کے الزام میں سزائے موت، عمر قید سمیت دیگر سزائیں ہوسکتی ہیں، فوج کے ادارے کی کامیابی کی بنیاد اس کا ڈسپلن ہے، ڈسپلن قائم رکھنے کیلئے سزا و جزا کا موثر نظام فوج میں موجود ہے۔ امجد شعیب کا کہنا تھا کہ فوجی افسران کی سزاؤں کا اعلان اس لئے کیا گیا کیونکہ سیاستدانوں کی طرح فوج کے احتساب کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، لوگوں کو شاید پتا نہیں یا بعض کرپٹ لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، اب لوگوں کو اندازہ ہوجائے گا کہ فوج کا نظام سخت ہے جس کے ذریعہ سزا دینا آسان ہے، تینوں افسران کو الگ الگ کیسوں میں سزا دی گئی ہے، یہاں کوئی نیٹ ورک نہیں تھا ان تینوں نے اپنی ذاتی حیثیت میں الگ الگ جگہ معلومات فراہم کیں۔ امجد شعیب نے کہا کہ ان افسران نے جن ممالک کو اطلاعات فراہم کیں ان کے ساتھ فوجی و سفارتی تعلقات پرکوئی اثر نہیں پڑے گا، ان ممالک کے انٹیلی جنس ادارے کبھی یہ بات نہیں مانیں گے اور نہ ہی ہمارے پاس ان کا ٹرائل کروانے کا کوئی نظام ہے۔ نمائندہ خصوصی نجئ ٹئ وئ زاہد گشکوری نے کہا کہ نیب 77فیصد کیسوں کو مختلف عدالتوں میں آگے بڑھانے میں ناکام رہا ہے، نیب نے 1205ریفرنسز دائر کیے ہیں جس میں 900سے زائد ریفرنسز کی سماعت نہیں ہوسکی ہے جبکہ بہت سی اہم شخصیات کیخلاف 121ریفرنسز کافی عرصہ سے التواء کا شکار ہیں۔نمائندہ جیو نیوز اویس یوسف زئی نے کہا کہ عدالت جعلی اکاؤنٹس کیس کو بہت پھیلا ہوا کہہ چکی ہے، عدالت کہتی ہے کہ اس کیس کو تھوڑا سمیٹنا پڑے گا، جمعرات کو جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا اس کیس میں آصف زرداری کا کردار کہاں نظر آتا ہے، زرداری گروپ نامی کمپنی میں آصف زرداری صرف شیئر ہولڈر ہیں ڈائریکٹر نہیں ہیں، آصف زرداری کیخلاف آٹھ مختلف انکوائریز چل رہی ہیں جس میں مختلف ضمانتوں کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہیں، عدالت کی کوشش ہے کہ ضمانتوں کی درخواستوں کو کیس ٹو کیس نمٹایا جائے۔ میزبان محمد جنید نے تجزیہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت ججوں کیخلاف ریفرنس کی تصدیق کردی ہے جس کیخلاف سخت ردعمل سامنے آرہا ہے، قانونی ماہرین تشویش کا اظہار کررہے ہیں، وکلاء نے سڑکوں پر آنے کا اشارہ دیدیا ہے اور سیاسی جماعتوں نے بھی احتجاج کی تیاری شروع کردی ہے، حکومت نے ججوں کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی تصدیق کردی ہے۔وکلاء کی طرف سے حکومتی فیصلے پر ردعمل آرہا ہے، سپریم کورٹ بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کے معاملہ پر اجلاس بلایا جس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ اگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کی بات درست ہے تو وہ ججوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے، سندھ ہائیکورٹ بار کونسل نے بھی ججوں کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنس فوراً واپس لیا جائے ورنہ ملک گیر تحریک چلائیں گے، سپریم کورٹ بار کے سابق صدر رشید اے رضوی نے کہا کہ جو سازش کل ہوئی ہے وہ اکتوبر میں شروع ہوئی تھی، اگر اچھے ججز کو فارغ کردیا گیا تو عدلیہ کا برا حال ہوجائے گا، اگر اچھے ججز کو فارغ کیا گیا تو 2007ء سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے، بار نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے پر مذمتی قراراد بھی منظور کی، اس قرارداد کے مطابق سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن متفقہ طور پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدر پاکستان کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل بھیجے جانے والے ریفرنس کی مذمت کرتی ہے، قرارداد کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے ایماندار ترین ججوں میں سے ایک ہیں، ان کا وقار ناقابل مواخذہ ہے جو انہوں نے کوئٹہ کمیشن رپورٹ اور فیض آباد دھرنے جیسے فیصلے دے کر ثابت کیا ہے،قرارداد کے مطابق سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد ابراہیم کو سراہتی ہے جنہوں نے جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف حکومتی ریفرنس کے بعد احتجاجاً استعفیٰ دیدیا، سندھ ہائیکورٹ بار متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے جس کا مقصد عدلیہ کی آزادی اور رولء آف لاء کو مجروح کرنا ہے، سندھ ہائیکورٹ بار مطالبہ کرتی ہے کہ اس غیرسنجیدہ ریفرنس کو فوری طور پر واپس لیا جائے، سیاسی جماعتوں کا بھی اس پر ردعمل سامنے آرہا ہے، نواز شریف نے کارکنوں کو پیغام دیا ہے کہ عدلیہ پر حکومتی حملے ناکام بنانے میں کسی کمزوری کا مظاہرہ نہ کریں، پارٹی ججوں پر حکومت تہمت کو بے نقاب کرے اور بھرپور مزاحمت کرے۔ محمد جنید نے تجزیے میں مزید کہا کہ پیپلز پارٹی ان دنوں نیب کے ہدف پر ہے۔

About clicknewslive

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں