Home / ہمارا شہر / اسلام آباد / اقدام نئی وکلاتحریک اوراپوزیشن احتجاج کاسبب بن سکتاہے،صدرعلوی اوربعض پارٹی رہنماناخوش

اقدام نئی وکلاتحریک اوراپوزیشن احتجاج کاسبب بن سکتاہے،صدرعلوی اوربعض پارٹی رہنماناخوش

اسلام آباد ( شہروزسے) پاکستان تحریک انصاف کے کئی وزیر اور ارکان پارلیمنٹ نے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے اچھی ساکھ کے حامل جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے فیصلے کیخلاف اپنی نا پسندیدگی سے آگاہ کر دیا ہے۔ باخبر وزارتی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ صدر مملکت عارف علوی بھی نا خوش تھے لیکن انہیں وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کرنا پڑا۔ ذریعے نے انکشاف کیا کہ صدر مملکت کو ریفرنس میں تحریر کردہ زبان تبدیل کرانا پڑی کیونکہ وزارت قانون نے اس میں بہت سخت زبان استعمال کی تھی۔ ذرائع نے دی نیوز کو یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی کے وزراء اور ارکان پارلیمنٹ نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے کہ یہ اقدام غلط ہے اور حکومت نے سوچ سمجھ کر فیصلہ نہیں کیا۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ عموماً پی ٹی آئی جسٹس عیسیٰ کے متعلق اقدام کی مخالف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے واٹس ایپ گروپ میں پی ٹی آئی رہنمائو ں نےشدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور صدر اور وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ عدلیہ تحریک میں سب سے بڑا کردار ادا کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف جسٹس عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کیسے دائر کر سکتی ہے۔ جسٹس عیسیٰ کو ایک وسیع حلقہ قابل احترام سمجھتا ہے اور آزادی کے حوالے سے پہچانتا ہے۔ وزیر قانون نسیم فروغ پر تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے جسٹس عیسیٰ کیخلاف کیس کی شروعات کی۔ وزارت قانون نے ریفرنس کی سمری تیار کی تھی جس کے متعلق پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سمری پر کابینہ میں بحث تک نہیں کی گئی۔ ایک وزارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ وزیراعظم کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر بات کریں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیروں اور رہنمائوں نے اپنے واٹس ایپ گروپ میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں اور کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد میں بدھ کے روز کیے گئے سلوک پر بھی تنقید کی۔ یہ لوگ بلاول بھٹو کی نیب میں پیشی کے موقع پر وہاں جمع ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے غلط انداز سے صورتحال کو دیکھا اور غیر ضروری طور پر حکومت کیلئے تنقید کا ماحول پیدا کیا۔ حال ہی میں حکومت نے سپریم جوڈیشل کونسل میں اعلیٰ عدلیہ کے دو ججوں کیخلاف ریفرنس دائر کیا، ان پر بیرون ملک اپنے نام پر یا اپنے گھر والوں کے نام پر جائیدادیں رکھنے کا الزام ہے۔ ایک ریفرنس میں جس جج کا نام شامل ہے وہ جسٹس عیسیٰ ہیں۔ میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریفرنس فروغ نسیم کی ہدایت پر وزارت میں تیار کیا گیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ریفرنس دائر کرنے کیلئے 3؍ نومبر 2007ء کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے سابق جج کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میڈیا میں خبریں آنے پر جسٹس عیسیٰ نے صدر مملکت سے رابطہ کرکے مس کنڈنٹ کے الزامات کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس کے حوالے سے وضاحت مانگی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ موجودہ چیف جسٹس کے بعد ملک کے چیف جسٹس بنیں گے۔ انہوں نے صدر عارف علوی کو خط لکھ کر ان کی توجہ ریفرنس کے متعلق خبروں کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح ’’منتخب انداز میں لیک ہونے والی خبریں کردار کشی کے مترادف‘‘ ہیں اور اس سے مناسب طریقہ کار اور شفاف ٹرائل کا حق سبوتاژ ہوتا ہے اور ساتھ ہی عدلیہ کا ادارے کو نقصان ہوتا ہے۔ اگر سرکاری اقدام نے کابینہ اور حکمران جماعت کے لوگوں کو حیران کیا تو دوسری طرف میڈیا، وکلاء برادری اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا۔ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت نے ریفرنس واپس نہ لیا تو یہ معاملہ ایک اور عدالتی تحریک کو جنم دے گا۔ جس وقت وکلاء برادری نے حکومتی اقدام پر اپنے رد عمل کا اظہار دینا شروع کر دیا ہے، اس وقت سیاسی جماعتیں بھی اپنی حکمت عملی مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قاضی عیسیٰ ایشو عید کے بعد حکومت کیخلاف سخت مزاحمت کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ زاہد فخر الدین ابراہیم کی بھی تعریفیں ہو رہی ہیں جنہوں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کیخلاف مبینہ مس کنڈکٹ کے الزام پر ریفرنس دائر کیے جانے پر بدھ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ زاہد فخر الدین سپریم کورٹ کے سابق جج اور معروف وکیل فخر الدین جی ابراہیم کے صاحبزادے ہیں اور بدھ کو انہوں نے بحیثیت اٹارنی جنرل اپنا استعفیٰ صدر عارف علوی کو بھجوا دیا۔ اپنے استعفے میں انہوں نے یہ کہا کہ دائر کردہ ریفرنسز میں سے ایک ایسے جج کیخلاف ہے جن کی ساکھ بیحد شاندار ہے اور جن کیخلاف حکومت پہلے ہی فیض آباد دھرنا کیس سے اپنی رائے قائم کیے ہوئے ہے۔ میری رائے میں یہ اقدام ججوں کے احتساب کے متعلق نہیں بلکہ آزاد افراد کی ساکھ مجروح کرنے اور عدلیہ کو زیر کرنے کی ایک غیر محتاط کوشش ہے۔ جب تک اس اقدام کی مخالفت نہیں کی جائیگی اس وقت تک ایک ایسے ادارے کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا رہے گا جو ملک میں بنیادی حقوق اور نوزائیدہ جمہوریت کا پاسدار ہے۔

About clicknewslive

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں