Home / اہم خبریں / وکلاء کو جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی دیانت و شرافت پر اعتماد ہے،امان اللہ

وکلاء کو جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی دیانت و شرافت پر اعتماد ہے،امان اللہ

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں میزبان محمد جنید سے گفتگو کرتے ہوئے صدر SCBA امان اللہ نے کہا ہےکہ پاکستان کے وکلاء کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی دیانت اور شرافت پر اعتماد ہے ان کو اس معاملے میں اکیلا نہیں سمجھتاچاہیے،سابق صدر SCBA کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اچھا قدم نظر نہیں آتا ،مستقبل میں حکومت کو شدید قسم کی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، سابق صدر SCBA رشید اے رضوی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یہ ایک ٹارگٹڈ ریفرنس ہے۔ صدر SCBA امان اللہ نے کہا کہ بطور صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان میری رائے ہے یہ خبریں اخباروں میں باوثوق ذرائع سے سوشل میڈیا کے ذریعے سے اور بالخصوص ہمارے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ سے تصدیق ہو رہی ہے کہ ایسا کوئی ریفرنس فائل ہوا ہے اور آپ کی بات سے پتہ چلا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط لکھا ہے مجھے ان معاملات کا باقاعدہ علم نہیں ہے جو بھی صورتحال ہے واضح ہونا چاہیے ۔ جہاں تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ورتھ اور ویلتھ کی بات ہے ان کی ورتھ اور ویلتھ

کسی سے کم نہیں ہے کیوں کہ وہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے ایک ساتھی کے فرزند ہیں جن کی کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں بڑی جائیدادیں تھیں اور اب بھی ہیں اُن کی بیگم صاحبہ کی بہت بڑی جائیداد ہیں اگر کسی نے کوئی جائیداد خریدی بھی ہے اگر یہ الزام ہے تو اتنا بڑا جرم نہیں ہوگا اور نہ ہی ثابت ہوسکے گا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جذباتی اقدام ہے ان کو خط نہیں لکھنا چاہیے تھا خط لکھ کر وہ اور زیادہ ان کو خوش کر رہے ہیں اور پوراپاکستان کے وکلاء کو ان کی دیانت اور شرافت پراعتماد ہے ان کو اس معاملے میں اکیلا نہیں سمجھتاچاہیے انہیں نہیں سوچنا چاہیے کہ کوئی ریفرنس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ہے اگر ہے تو یا تو کسی کی کوئی غلط فہمی ہے یا ذاتی شکایت ہے مگر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی دیانت شرافت پر انگلی نہیں اتھائی جاسکتی۔ سابق صدر SCBA کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عام حالات میں یہ اتنی تشویش کی بات نہ ہوتی مگر اس وقت جو حالات ہیں اور قاضی فائز کے خلاف ماضی میں بھی ایسا ہوا اور اُن کے کچھ فیصلوں کے حوالے سے حکومت کو یا بعض اداروں کو مسئلہ موجود ہے اس پس منظرمیں جو کچھ ہو رہا ہے اس حوالے سے نہ صرف ہمارے لئے بہت تشویش کی بات ہے بلکہ ہر شخص اس کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے اور حکومت نے جو کیا یہ اچھا قدم نظر نہیں آتا اور اس کے پیچھے کوئی ملوث نظر آتاہے جس کی وجہ سے مستقبل میں حکومت کو شدید قسم کی تنقید کا سامنا کرناپڑے گا اور بہت سے اداروں کی عزت اس میں خراب ہو ادارے بعض دفعہ قدم اٹھاتے ہوئے یہ نہیں سوچتے ان کے خیال میں جو کچھ ان کی نظر میں حب الوطنی جو ہے وہ وہی ہوتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہے سارے لوگ محب وطن ہیں اختلاف ہمیشہ ترقی کو جنم دیتا ہے یہ اختلاف ہمیشہ دبانا چاہتے ہیں اور جس انداز میں یہ دبانا چاہتے ہیں یہ پاکستان کے لئے اچھا عمل نہیں ہوگا۔دو طرح کے شکایت کنندہ ہوتے ہیں ایک عام پبلک ہوسکتا ہے یا وکلا کی طرف سے ہوتا ہے یاپھر گورنمنٹ اور صدر پاکستان کا علامتی عہدہ جو وفاق کی علامت ہوا کرتا ہے وہ اور فرض کرلیجئے یہ شکایت غلط ہے یا بدنیتی پر مبنی ہے یا اس کی ٹائمنگ جو ہے تو پھر میرا خیال ہے شکایت کنندہ کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے بلکہ ہونی چاہیے۔ یا تو یہ خط لکھا جاتا اور کسی کو پتہ نہ چلتا جب بات چل رہی ہے تو کیا وہ اتنا بھی نہ مانگے کہ مجھ پر جو الزام ہے اس کی کاپی دے دیجئے سارے پاکستان میں رسوا کر دیا گیا ہے تو ان کی طرف سے خط لکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ سابق صدر SCBA رشید اے رضوی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یہ ایک ٹارگٹڈ ریفرنس ہے۔ اسلام آباد کے دھرنے پر قاضی فائز عیسی نے فل بنچ کے لئے آرڈر لکھا تھا اب حال ہی میں جو ریو فائل ہوا ہے ریو میں جو زبان استعمال کی گئی ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لئے نو ریو فائل ہوئے ہیں ایک فیصلے کے خلاف یہ اس بات کا اشارہ تھا اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ یہ بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔بار اس ایشو پر متحد رہے گی جس طرح سے ماضی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپورٹ کیا ہے وہ ان کے ساتھ رہے گی پیچھے نہیں ہٹے گی گزشتہ تین چار برسوں میں ہم دیکھ رہے ہیں جو ریفرنس آنے تھے جن ججز کی شہرت لوگوں کے سامنے ہے انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی نہ ہی صدر مملکت کام کرتے ہیں لیکن ایسے بیباق اور نڈر جج کے خلاف حکومت کیوں ایکٹو ہوجاتی ہے اس پر بار ری ایکٹ کرے گی۔نمائندہ جیو نیوززاہد گشکوری نے کہا کہ ایوان صدر نے ا س بات کی تصدیق کی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے ان کو یہ خط موصول ہوا ہے خط کی کاپی وزیراعظم کے دفتر میں بھی موصول ہوئی ہے ۔

About clicknewslive

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں