Home / ہمارا شہر / اسلام آباد / غیرمعمولی معاشی بحرا ن کا سامنا، صوبے قبائل کیلئے اپنے وعدےپورے، وفاق سے مل کر کام کریں، عمران خان، سندھ نے IMF قرضوں کی تفصیل مانگ لی، NEC اجلاس

غیرمعمولی معاشی بحرا ن کا سامنا، صوبے قبائل کیلئے اپنے وعدےپورے، وفاق سے مل کر کام کریں، عمران خان، سندھ نے IMF قرضوں کی تفصیل مانگ لی، NEC اجلاس

اسلام آباد(‘ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت ملک کو جس غیرمعمولی معاشی بحران کا سامنا تھا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی‘ہماری کوششوں کا بنیادی مقصد ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی بحران مواقع بھی فراہم کرتا ہے‘موجودہ اقتصادی بحران پر قابو پانے کیلئے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو مل کوششیں کرنا ہوں گی۔ وزیراعظم نے تمام صوبوں پر زور دیا کہ وہ سابق فاٹا کی ترقی کیلئے ضروری مالیاتی وسائل کی فراہمی کیلئے پہلے سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کو قومی اقتصادی کونسل ( این ای سی )کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قومی اقتصادی کونسل نےسالانہ اقتصادی پلان کے تحت آئندہ مالی سال 2019-20ءکیلئے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا ہدف 4 فیصد، زراعت کی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد، صنعت کی بڑھوتری کا ہدف 2.2

فیصد اور خدمات کے شعبہ کا ہدف 4.8 فیصد رکھنے کی منظوری دےدی ہے، اجلاس میں 12ویں پانچ سالہ منصوبہ کی اصولی طور پر منظوری دی گئی‘قومی اقتصادی کونسل نے سابق فاٹا میں تعمیرنو اور بحالی کیلئے خصوصی فورم کے اختیارات میں دسمبر 2019ءتک توسیع دےدی۔ اجلاس میں اسلام آباد ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں 1837 ارب روپے کے قومی ترقیاتی خاکہ (آؤٹ لے) کی منظوری دی گئی‘، اس میں وفاق اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام شامل ہیں‘اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کیلئے افراط زرکا ہدف 8 اعشاریہ 5فیصدمقرر کیاگیا‘ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے شکوہ کیاکہ پی ایس ڈی پی لسٹ میں سے سندھ کی اسکیمیں ختم کردی گئی ہیں جس پر وزیراعظم نے پلاننگ کمیشن کوسندھ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی ‘ وزیراعلیٰ سندھ مطالبہ کیاکہ آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات این ای سی اجلاس میں پیش کی جائیں جس پر مشیرخزانہ نے بتایاکہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول کا معاہدہ ہواہے ‘ایگزیکٹیو بورڈ نے ابھی اس کی منظوری دینی ہے ‘وزیراعلیٰ پنجاب نے شکایت کہ صوبے کے 4ترقیاتی پروجیکٹس پی ایس ڈی پی لسٹ میں سے نکال دیئے گئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فاٹا انضمام کیلئے کم وسائل مختص کرنے کا معاملہ اٹھایا ۔قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس بدھ کو یہاں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 12ویں پانچ سالہ منصوبہ کا مزید جائزہ لیا جائے گا اور اس کی نوک پلک سنواری جائے گی بالخصوص اس کے عملدرآمد کے طریقہ کار پر تمام فریقوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے مالی سال کیلئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہائیر ایجوکیشن، سائنس و ٹیکنالوجی، تکنیکی تعلیم و تربیت پر نئے سرے سے توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اجلاس کے شرکاءکو بتایا گیا کہ کم ترقی یافتہ اضلاع کو دیگر ملک کے علاقوں کے برابر لانے کیلئے اہداف پر مبنی اقدامات کئے جائیں گے، اس سے تمام علاقوں کی یکساں ترقی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 10 ارب سونامی پروگرام، وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ انیشیٹیو، کنٹرول لائن کے ساتھ رہنے والے رہائشیوں کی دوبارہ آبادکاری، گلگت۔ شندور ۔ چترال روڈ کی تعمیر، گلگت میں سیوریج اور سینی ٹیشن سسٹم میں بہتری اور خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی اضلاع میں ترقی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے اہم ترجیحاتی منصوبوں میں شامل ہے۔اسلام آباد ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کو 60 ملین روپے تک کے منصوبوں کی منظوری کا اختیار ہو گا۔ قومی اقتصادی کونسل نے پروگرام فار رزلٹس، ڈویلپمنٹ پالیسی کریڈٹ اور فنانشل انٹر میڈی ایشن پروگرام کیلئے طریقہ کار کی منظوری دےدی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت ملک کو جس اقتصادی بحران کا سامنا تھا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی،ہماری کوششوں کا بنیادی مقصد ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی بحران مواقع بھی فراہم کرتا ہے، ہم وہ تمام اقدامات کر سکتے ہیں اور ان تمام اہداف کو اب حاصل کر سکتے ہیں جو پہلے مکمل کرنے تھے۔آئی این پی کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 925 ارب روپے تجویزکیا گیا ہے ۔ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 912 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ آئندہ مالی سال کے لیے وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 577ارب روپے اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 250ارب روپے اضافے کیا جا رہا ہے جبکہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 327ارب روپے اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ وفاقی وزارتوں کیلئے 370ارب کا ترقیاتی بجٹ تجویزکیا گیاہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی(این ایچ اے )کیلئے 157 ارب روپے، پیپکو اور این ٹی ڈی سی کیلئے 42 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیاہے۔اسی طرح آبی وسائل کیلئے 84 ارب روپے، ریلویز کیلئے 14 ارب روپے اور ایرا کیلئے 5ارب روپے مختص کرنے کی تجویزسامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے عارضی طور پر بے گھر افراد(آئی ڈی پیز) کی بحالی کیلئے 32 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی ہے۔

About clicknewslive

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں