Home / ہمارا شہر / اسلام آباد / چیک پوسٹ حملہ، فوج سے اظہار یکجہتی، ترقی کے دشمنوں نے عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیل کر امن دائو پر لگایا، رعایت نہیں ہوگی، وفاقی کابینہ کا اظہار مذمت

چیک پوسٹ حملہ، فوج سے اظہار یکجہتی، ترقی کے دشمنوں نے عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیل کر امن دائو پر لگایا، رعایت نہیں ہوگی، وفاقی کابینہ کا اظہار مذمت

اسلام آباد(نمائندہ کلک ) وفاقی کابینہ نےشمالی وزیرستان میں پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کی مذمت کرتےہوئے شہید اہلکار کیلئے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔ کابینہ نے واضح کیا ہے کہ پرچم کی توہین کرنے اور ملک کے تشخص اور وقار کو مجروح کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں کی جا ئے گی،شمالی وزیرستان میں ترقی دشمنوں نے عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیل کر امن دائو پر لگایا،ریاست کی رٹ چیلنج کرنیوالوں کیخلاف زیروٹالرنس ہوگی ، کابینہ نے افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا،کابینہ نے فیصلہ کیا کہ سگریٹ اور سافٹ ڈرنکس کی حوصلہ شکنی کیلئے ان پر اضافی ہیلتھ ٹیکس عائد کیا جائےگا‘ کابینہ نے کچھی کنال کرپشن کیس کو تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی جو اس ضمن میں اپنی کارروائی ایک ماہ کے اندر مکمل کریگا جبکہ وزیراعظم نے وزراء کوکفایت شعاری مہم پرعملدرآمدکی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ پیٹپرپتھرباندھ لیں، وزیرِ اعظم نے بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کو سزائے موت دینے کیلئے قانون سازی کی جائے‘ کابینہ کو بتایا گیا کہ مختلف وزارتوں کی جانب سے اب تک 31اثاثہ جات کی نجکاری کی تجویز کی گئی ہے۔ ان میں کامرس، پاکستان پوسٹ، وزارتِ صنعت، فیڈرل بورڈ آف ریوینو، ایرا، کابینہ ڈویژن اور وزارتِ اطلاعات کے اثاثہ جات شامل ہیںجبکہ معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ مختلف محکموں کی 31پراپرٹیز کی نشاندہی کی گئی ہے،ان سرکاری املاک کاغلط استعمال ہوا‘مریم صفدر بار بار ایسی زبان استعمال کرتی ہیں جس کی معاشرتی اقدار اجازت نہیں دیتی ‘لوٹاہوامال غنیمت واپس لائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کااجلاس گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میںفیصلہ کیاگیاکہ بجٹ 11جون کوپیش کیاجائیگا، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بجٹ حکمت عملی 20-2019 کی دستاویزات پر اراکین کو بریفنگ دی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ بجٹ کفایت شعاری پرمبنی ہوگا، اجلاس کے بعد معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردو س عا شق اعوان نے میڈیا کو بریفنگ دیتےہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان کا واقعہ افسوسناک ہے‘قبائلی لوگوں کو ورغلا کر جتھے کی صورت میں حملے کیلئے لا یا گیا‘شرپسند عناصر بیرونی ایما پر شمالی وزیرستان میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ یہ واقعات امن اور ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی مذموم سازش ہے۔ کابینہ نے کہا کہ قبائلی عوام کے بنیادی حقوق اور جان ومال کا تحفظ فر اہم کیا جا ئے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اب تک وفاقی کابینہ کے کل منعقدہ اجلاس کی تعداد 42ہے جن میں 819فیصلے کیے گئے۔ 584پر یعنی 71فیصد پر عمل درآمد ہو چکا ہے جبکہ 195جو 24فیصد بنتے ہیں ان پر عملدرآمد جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ مختلف محکموں کی 31پراپرٹیز کی نشاندہی کی گئی ہے،ان سرکاری املاک کاغلط استعمال ہوا، ایرا کے افسر کی 17جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی مالیت 10ارب روپے ہے۔انہوںنے متاثرین زلزلہ کے فنڈکاغلط استعمال کرکے یہ جائیدادیں بنائیں، کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ بجٹ میں معاشرے کے پس ماندہ اورغریب طبقات کی فلاح و بہبود پر بھر پور توجہ دی جائے گی۔ معاشی استحکام کیلئے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتا یا کہ بجٹ 11جون کو پیش ہو گا۔ صو بوں کو بھی اعتماد میں لیاجا ئے گا۔کفایت شعاری مہم کے تحت بجٹ سیشن کے دوران میڈیا اور عوامی نمائندوں کیلئے ہائی ٹی کا انتظام نہیں ہو گا، بجٹ کافوکس معیشت کے استحکام پر ہے ۔ اکنا مک روڈ میپ کی وجہ سے روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے ۔ اسٹاک ایکسچینج نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، غیر یقینی کیفیت ختم ہوگئی ۔ کابینہ نے اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا ۔اجلاس میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی وفاقی حکومت کو منتقلی پر گفتگو ہوئی۔ فیصلہ ہوا کہ معان خصوصی برائے صحت کی سربراہی میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون اور سیکرٹری صحت پر مشتمل کمیٹی بنائی جائیگی۔ کمیٹی اس منتقلی سے متعلقہ امور بشمول مالی معاملات طے کرے گی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ اس سال ملنے والے اضافی 15790 حجاج کے سرکاری کوٹہ کا ساٹھ فیصد یعنی 9474 کی قرعہ اندازی کا عمل کل ہی مکمل کر دیا جائے جبکہ بقیہ چالیس فیصد کا فیصلہ آئندہ کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ فردوس عاشق نے کہا کہ شریف خاندان کو وزیر اعظم کے ساتھ حسد اور بغض ہے ۔ انجمن دردان نیب نے اس موقع پر ایک فلاپ شو کیا ۔ نیب کا درد انہیں آ رام نہیں لینے دیتا، وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں یہ نہ پوچھا جا ئے کہ ہمارے پاس پیسہ کہاں سے آ یا ،انہوں نے عوام کے حقوق پر ڈا کے ڈال کر اپنے بچوں کے اثاثے اور کارو بار بنا ئے۔ ایک سیا ستدان اپنا قد اونچا کرنے کیلئے وزیر اعظم پر تنقید کرتا ہے لیکن سیا سی بونا اگر بانس پر چڑھ جا ئے تو اس کا قد اونچا نہیں ہوتا۔

About clicknewslive

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں