Home / ہمارا شہر / اسلام آباد / لگتا ہے تمام تفتیشی افسروں کو جیل بھیجنا پڑے گا ،سپریم کورٹ

لگتا ہے تمام تفتیشی افسروں کو جیل بھیجنا پڑے گا ،سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ کلک )عدالت عظمیٰ نے شوہر کو قتل کرنے کے الزام میں حوالات میں بند ملزمہ رفعت نورین کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم جاری کیا ہے ، دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یمارکس دیئے کہ لگتا ہے تمام تفتیشی افسروں کو جیل بھیجنا پڑیگا، کیا معلوم کل کسی کے کہنے پر پولیس مجھے بھی ملزم بنا دے۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے منگل کے روز ملزمہ کی ضمانت بعد از گرفتاری کی سماعت کی تو فاضل عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعدپراسیکیوشن اور پولیس پر سخت برہمی کا اظہار کیا،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پولیس کا ادارہ جعلی مقدمات کے ذریعے پیسے بنانے کیلئے نہیں قائم کیا گیا ہے ،تمام تفتیشی افسران کو ایک ایک ماہ جیل بھجوانا پڑے گا، تاکہ انہیں علم تو ہو سکے کہ جیل کیا ہوتی ہے،انصاف کیلئے سب سے پہلا فورم پولیس ہوتی ہے،صرف کسی کے کہنے پر حاملہ خاتون کو اس کے شوہر ہی کے قتل کاملزم بنا دیا گیاہے؟ کیا معلوم کل کسی کے کہنے پر یہی پولیس مجھے بھی ملزم بنا دے۔ بعد ازاں فاضل عدالت نے مذکورہ بالا حکم جاری کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی ،یاد رہے کہ ملزمہ رفعت نورین پر 2018 میں اپنے شوہر کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

About clicknewslive

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں