Home / اہم خبریں / وفاقی بجٹ، 24 ہزار ارب سود ادائیگی کیلئے، کریڈٹ کارڈ سے وصول کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن

وفاقی بجٹ، 24 ہزار ارب سود ادائیگی کیلئے، کریڈٹ کارڈ سے وصول کرنے والے اداروں کی رجسٹریشن

اسلام آباد (شہروز سے)کی ادائیگی20 فیصد اضافے کے ساتھ آنے والے مالی سال کے 2.4 ٹریلین روپے ہوجائے گی، ایک ٹریلین روپے کی اضافی مالی وصولیوں کے لئے ایف بی آر نے ان اداروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے جہاں وصولیوں کے لئے کریڈٹ کارڈ مشین نصب ہیں، نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے دینے کے بعد سود ادائیگی کی ضرورت میں اضافہ بڑے محصولات کو کھاجائے گا جس سے دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کیلئے مرکز کے پاس کچھ نہیں بچے گا، اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ جانے والے مالی سال کیلئے جی ڈی پی کے 7.3 فیصد مجوزہ خسارہ کے مقابلے میں بجٹ خسارہ 2019-20 میں جی ڈی پی کے تقریباً 6.3 فیصد تک نیچے لایا جاسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق بجٹ اسٹریٹجی پیپر (بی ایس پی) برائے 2019-20 آج وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سود کی

ادائیگی20 فیصد اضافے کے ساتھ آنے والے مالی سال کے 2.4 ٹریلین روپے ہوجائے گی۔ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے دینے کے بعد سود ادائیگی کی ضرورت میں اضافہ بڑے محصولات کو کھاجائے گا جس سے دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کیلئے مرکز کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔ آنے والے مالی سال میں تقریباً 2.7 تا 2.8 ٹریلین روپے کے بجٹ خسارے کے کامل اعداد و شمار میں کوئی بھی بڑا فرق نہیں ہوگا اگر اس کا موازنہ اسی سطح کے جانے والے مالی سال 2018-19 کے ساتھ کیا جائے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ جانے والے مالی سال کیلئے جی ڈی پی کے 7.3 فیصد مجوزہ خسارہ کے مقابلے میں بجٹ خسارہ 2019-20 میں جی ڈی پی کے تقریباً 6.3 فیصد تک نیچے لایا جاسکتا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اگلے بجٹ میں پرائمری بیلنس میں مزید کمی ہوگی کیونکہ ڈسکاؤنٹ ریٹس میں اضافہ سود ادائیگی کی ضرورت میں اضافے کے نتیجے کی صورت سامنے آیا جس سے جی ڈی پی کے ایک فیصد سے زائد مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کرنے کیلئے کوئی جگہ نہیں بچی۔ دریں اثناء مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے پیر کو کے پی میں ضم ہوجانے والے فاٹا ڈسٹرکٹس پر غور کیلئے اجلاس کی صدارت کی اور بالکل واضح کردیا کہ وسائل کی کمی کے نتیجے میں ترجیحات پر پھر سے غور کیا جانا چاہئے۔ اجلاس میں خیبر پختوانخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے صوبے میں ضم ہونے والے ڈسٹرکٹ کی مالی ضروریات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فاٹا کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن مدد کرے گی اور فاٹا کے ضم شدہ ڈسٹرکٹس کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے خیبر پختونخوا صوبے کی اعانت کرے گی۔ دوسری جانب 5550ارب روپے مالی وصولیوںکا ہدف پورا کرنے کیلئے حکومت نے آئندہ بجٹ میں سخت اقدامات تجویز کئے ہیں۔ جس میں ہوٹلوں پرکم شرح سے ٹیکس کا نفاذ، برآمدی شعبے پر سے زیرو ریٹنگ کا خاتمہ جس سے 75؍ ارب روپے حاصل کئے جاسکیں گے۔ایک موبائل سیل فون درآمد کرنے کی اجازت واپس لینا کم ڈیوٹی شرح کےساتھ اورٹیکس بنیاد کو وسعت دینے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ ایف بی آر نے فولادکے شعبے کو 17؍ فیصد جنرل سیلز ٹیکس ]جی ایس ٹی) کےساتھ معمول کی ٹیکس وصولیوں میں لانے کی تجویز دی ہے۔ شکر پر بھی جی ایس ٹی 17؍ فیصد کردی جائے گی۔ مشروبات پر ایف ای ڈی کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائےگا۔ ایک ٹریلین روپے کی اضافی مالی وصولیوں کے لئے ایف بی آر نے ان اداروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے جہاں وصولیوں کے لئے کریڈٹ کارڈ مشین نصب ہیں۔ ایف بی آر نے بینکنگ شعبے سے بے نامی اکائونٹس سے متعلق معلومات فراہم کرنے پربھی زور دیا ہے۔ کمپنیوں کے اکائونٹس کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ اکثر بڑے ڈیلرز بے نامی ہیں۔ یہ تجویز بھی زیر غور ہےکہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دے کر اخراجات کے گوشواروں کے ساتھ ریٹرن داخل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت قابل ٹیکس آمدنی سالانہ 12؍ لاکھ سے ہٹا کر 8؍ لاکھ روپے کرنے پر بھی غور کررہی ہے۔ لیکن اس تجویز پر عملدرآمد کے لئے پہلے وزیراعظم کے مشیر کو مطمئن کرنا ہوگا۔ ایف بی آر اس بات کو بھی لازمی کرنے جارہہ ےکہ مینوفیکچررز کو تقسیم کنندگان اور ڈیلرز کی جانب سے گوشوارے داخل کرنے کو یقینی بنانا ہوگا۔ آئندہ بجٹ میں انکم ٹیکس قانون میں تبدیلی بھی متوقع ہے۔

About clicknewslive

Check Also

: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں افغان طالبان کے جھنڈے لانے والے کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے

اسلام آباد کلک رپورٹر سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے …

Leave a Reply

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں