Breaking News
Home / کالمز / آج کے کالمز / لڑکی نے اپنی عزت کو محفوظ کرنے کے لیے بہت ہاتھ پاوں مارے

لڑکی نے اپنی عزت کو محفوظ کرنے کے لیے بہت ہاتھ پاوں مارے

مجھے کل ایک پاکستانی ٹی وی چینل پہ ایک ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔جس میں ایک امیر کبیر بگڑا شہزادہ ایک معصوم اور غریب لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ غریب لڑکی اس لڑکے کو منع کرتی ہے ظاہر ہے غریب لوگوں کے پاس جو سب سے قیمتی شے ہوتی ہے وہ انکی عزت ہی ہوتی ہے۔اور شریف لوگ اپنی عزتوں کا سودا نہیں کرتے لہذا لڑکی نے اپنی عزت کو محفوظ کرنے کے لیے بہت ہاتھ پاوں مارے ۔جیسا کہ مرد کو اللہ تعالی نے فولاد جیسی طاقت دی ہے لہذا اس بگڑے نوجوان نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی جب اس لڑکی نے اس جانور کی کوشش کو ناکام بنانے کوشش کی تو اس درندے نے اس کو موت کی گھاٹ اتار دیا ۔اب اس لڑکی کے والد نے بہت کوشش کی کہ اس درندہ صفت انسان کو اس کے کیےکی سزا ملے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگر سفید پوش انسان انصاف کی بھیک مانگنے نکلے تو اس کو سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ نہیں ملتا اور جو گنہگار ہوتا ہے وہ با عزت کھلی فضا میں دھندناتا پھرتا پے حالانکہ پولیس اور بہت سے شرفا اس وحشی جانور کی حقیقت جانتے ہوئے بھی اس کے حلاف ایک لفظ نہیں بولتے۔ اور غریب بیچارہ انصاف کی دھائی دیتے دیتے اس دنیا سے چلا جاتا ہے بہت حیرت کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگر کسی امیر کو اس کے کسی برے عمل کے کئے کی سزا ملے تو وہ پوری دنیا میں خود کو مظلوم ثابت کرتا ہے اس کے برعکس اگر کسی غریب کے ساتھ زیادتی ہو تو یہ امیر طبقہ اسکو اونچا سانس بھی نہیں لینے دیتا اور یہ غریب بیچارہ اپنی آواز کو کہاں تک پہنچائے اس بیچارے غریب کی آواز اپنے ہی گھر کی چاردیواری کے اندر دب کے رہ جاتی ہے مجھے ظالم سے زیادہ ان لوگوں پہ افسوس ہوتا ہے جو اس ظلم کے خلاف اپنا منہ کھولنے کی زحمت تک نہیں کرتے ۔وہ لوگ عینی شاہد ہونے کے باوجود اس ظلم کے خلاف گواہی دینے سے صاف انکار کر دیتے ہیں کہ جی ہم نے کچھ نہیں دیکھا ۔ارے ! ہم لوگ کس معاشرے میں رہ رہے ہیں ؟کیا ہم لوگوں کی نظر میں یہ بہت ہی معمولی بات ہے جس کو ہم لوگ بہت ہی لا پرواہی سے نظر انداز کر رہے ہیں کیا ہماری نظر میں اس ظلم کی کوئی وقت نہیں ۔بھائی اگر ہم لوگ اس ظلم کو یونہی نظرانداز کر دیں تو یقین جانیے ہم لوگ مسلمان کہلانے کے بھی حق دار نہیں۔ کم ازکم ہم لوگ اپنے نبی آخری الزماں کی اس حدیث مبارکہ کی ہی کچھ لاج رکھ لیں
آپ نے فر مایا۔۔۔!
“کہ تم میں سے جو شخص برائی کو ہوتا ہوا دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے۔ اگر اس برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں تو زبان سے روکے اور اگر زبان سے بھی روکنے کی طاقت نہیں تو اس برائی کو دل میں برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے ”
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم لوگ شاید ایمان کی نچلی سطح پہ بھی نہیں ہیں ۔

About clicknewslive

Check Also

مسلم لیگ ن نے دھماکہ کردیا

مسلم لیگ ن نے جے یو آئی کے آزادی مارچ میں شرکت کا فیصلہ کر …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں