Breaking News

مد رزڈے

شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے
دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے
صبح بیدار ہوتے ہی میسج اور نوٹیفکیشن چیک کرنے کے لیے موبائل آن کیا توا پنی کم علمی اور پسماندگی پر خفت کے ساتھ ساتھ اکبر الہ آبادی کا یہ شعر ذہن میں آگیاجو خود ساری زندگی مغربی تہذیب اور استبداد کار کے خلاف برسر پیکار رہے۔جی ہاں۔۔۔۔۔۔ آج مدرز ڈے تھا اور ہم بلکل لا علم تھے اکثر دوستوں نے تو فیس بک پر اس دن کی مناسبت سے اپنی والدہ کے ساتھ تصاویر بھی شئیر کیں اور نیک خواہشات اوردعائوں پر مبنی پیغامات تشہہر کئے اللہ کریم ان سب دوستوں کی مائوں کا سایہ تا حیات ان کے سروں پر قائم رکھے اور انہں اپنے والدین کیلئے دنیا و آخرت میں ذریعہ رحمت اور نجات بنائے مجھے کسی سے شکوہ نہیں ہے اور نہ ہی اس دن کے منانے پر کوئی اعتراض ہے میرا سوال صرف اتنا سا ہے کہ کیا ماں کے ساتھ ہماری محبت ایک دن تک ہی مخصوص ہے؟ سال کے بقیہ 364دن کا کیا کریں؟کیا ہم جدت وروشن خیالی کی لہر میں اپنی مذہبی اور اخلاقی اقدار سے بہت دور نہیں نکل آئے ماں اور باپ سے محبت کے لیے دن مخصوص کرنے کا کلچر تو ان لوگوںکا ہے جو شادی کے بعد اپنے ماں باپ کو (OLD HOUSES)اولڈ ہاوسسز میں چھوڑ آتے ہیں اور وہ بدقسمت والدین سارا سال اس دن کا انتظار کرتے ہیں کہ ان کی اولاد 12مئی کے دن ان کا حال دریافت کرنے آئے گی اور کچھ وقت ان کے ساتھ گزارے گی اور پھر واپس اسی مصروف زندگی میں مست ہو جائے گی جہاں کسی کو کسی دوسرے سے کوئی سروکار نہیں ۔بقول علامہ اقبال
دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب
ان کی تاریخ پڑوھو گے تو دہل جاؤ گے
اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
اکبر الہ آبادی مغربی تہذیب اور روشن خیالی کے دل دادہ اس طبقہ کے احوال کو یوں بیان کرتے ہیں
طفل سے بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
دودھ تو ڈبے کا ہے اور تعلیم ہے سرکارکی
اللہ کے پیارے محبوب حضرت محمد ۖ جن کی زندگی کا ایک ایک پہلو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے آپ ۖ کی عمر مبارک چھ سال تھی جب آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا جب دنیا میں تشریف لائے تو والد پہلے ہی وفات پا چکے تھے ۔یتیمی میں پرورش پائی حضور ۖجب بھی اپنی والدہ ماجدہ کو یاد کرتے تو بہت روتے اور اکثر کہا کرتے کہ اے کاش کہ میری والدہ زندہ ہو تی اور میں حالت تماز میں نوافل پڑھ رہا ہوتا ادھر سے وہ مجھے بلاتی تو میں نماز چھوڑ کر ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ۔صرف اپنی امت کو یہ بتلانے کے لیے کہ اللہ کریم نے ماں کا کیا مقام رکھا ہے ایک مرتبہ حضور ۖ خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے ممبر پر چڑھنے لگے تو جب ممبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو کہا آمین! صحابہ کرام متوجہ ہوئے آپ ۖ نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو پھر کہا آمین! اسی طرح تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو پھر ارشاد فرمایا آمین !بعد میں صحابہ کرام نے دریافت کیا تو حضور اکرمۖ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جب ممبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرائیل حاضر آئے اور بددعا کی کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کی زندگی میں رمضان ( ماہ صیام )آئے اور وہ اپنی بخشش کروا کر جنت حاصل نہ کرلے تو میں نے جواب میں کہا آمین !دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرائیل نے بد دعا کی کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے آپ ۖ کا نام مبارک آئے اور آپ ۖ پر درود نہ بھیجے تو میں نے کہا کہ آمین!جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو پھر حضرت جبرائیل تشریف لائے اور عرض کی کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جو اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پائے اور ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کر پائے تو میں نے جواب میں کہا آمین!
اسلام کی تاریخ ایسے بے شمار واقعات و ارشادات سے بھری پڑی ہے کہ جس میں والدین بالخصوص ماں کے ساتھ حسن سلوک کو لازم وملزوم قرار دیا گیا ہے قران کریم میں ارشاد باری تعالی ہے وباالوالدین احسانا ترجمہ” اور اپنے والدین کے ساتھ احسان ( حسن سلوک) کرو”
پھر ارشاد فرمایا اُف ولا تنھرھما ترجمہ” انہیں اُف تک مت کہو اور نہ ہی انہیں جھڑکو”
پھر ارشاد فرمایا واشکرلی ولوالدیک ترجمہ ” پس تو میرا بھی شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی ”
اللہ رب العزت ہمیں اپنے والدین کا ادب واحترام اور خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین!

About clicknewslive

Check Also

نجی اسکولوں کی فیسوں کا معاملہ، فریقین 26 ستمبر کو طلب

لاہور ہائیکورٹ نے نجی اسکولوں میں اضافی فیسوں کی وصولی کےخلاف درخواست پرفریقین کے وکلاء …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں