Breaking News
Home / کالمز / آج کے کالمز / ایک اور کا میابی تحریر۔۔ گلریز خان

ایک اور کا میابی تحریر۔۔ گلریز خان

جرائم پیشہ عناصر خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں پولیس کی گرفت سے نہیں بچ سکتے ۔ گناہوں کی دلدل اورجرائم کی دنیا لذت تو دیتی ہے مگر اس کے نتائج بہت بھیانک اور عذاب بہت تکلیف دہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی مجرم اور گناہ گارکی رسی دراز کر کے دیکھتا ہے کہ بندہ کب تک اس عذاب والی زندگی کا مکیں رہتا ہے ۔پھرقادر مطلق کی پکڑ کا وقت آتا ہے اور بڑے بڑے برج منہ کے بل الٹ جاتے ہیں۔ اپنی ہوش رہتی ہے اور نہ اکٹھے کئے گئے مال کاخیال ۔ آدمی توبہ کے لئے ہا تھ اٹھانا چاہتا ہے مگر وقت گزر چکاہوتا ہے۔ عیش و عشرت کی زندگی ختم اورتباہی، بربادی اور ذلت کا دور شروع ہوتا ہے۔ آدمی ا پنے بچاؤ کے لئے آسرے ڈھونڈتا ہے

مگر سب رشتے ناطے جواب دے چکے ہوتے ہیں۔ جیل کی دنیااس کا گھر ، گھروندا اور دال روٹی اس کا رزق ٹھہرتا ہے ۔ ایسے ہی ایک گروہ کی گرفتاری گوجرانوالہ پولیس کے ہاتھوں ہوئی ہے۔گروہ کے ارکان کی صبح ایک ضلع میں اور دوپہردوسرے صوبہ میں گزرتی ۔ گروہ کے ارکان ایک پوائنٹ پر اکٹھے ہونے کے لئے جہاز کے سفر کو ترجیح دیتے ۔ طاؤس و رباب کے دلدادہ ان منچلوں کی اچھے ہوٹلوں میں شامیں گزرتیں ۔ پھر پکڑ کا وقت آیا اور در بدر کے ہو کر رہ گئے ۔ سفر کے لئے جہاز رہے نہ طعام و قیام کے لئے اچھے ہوٹل ۔
گرفتار ملزمان جاوید سکنہ کراچی حال لاہور، قمر زمان سکنہ غازی روڈ لاہور اور عاصم محمود سکنہ قلعہ روات اسلام آباد کے جرائم کی کہانی ان کی زبانی اس طرح ہے کہ ملزمان واردات کے لئے پوش علاقوں کا انتخاب کرتے ۔ رہائشی کالونیوں میں گھومتے، گھروں کا جائزہ لیتے ۔ مہارت سے کھڑکیوں کے فریم اتارتے۔ کمرے کے مین لاک کو توڑتے اور کمروںمیں داخل ہو کر قیمتی ا شیاء اور نقدی چراتے۔ملزمان نے ڈی سی کالونی، واپڈا ٹاؤن ، سٹی ہاؤسنگ اور دیگر پوش علاقوںسے نقب زنی اور چوری کی بیسیوں وارداتوں کے دوران نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی سامان چرایا۔وارادت کے بعد اپنے اپنے رہائشی اضلاع چلے جاتے ۔ موبائل فون پہ بات چیت کے دوران دوسری واردات کی پلاننگ کرتے اور بذریعہ جہاز سفر کرتے ہوئے لاہور اکٹھے ہوتے۔ بعد ازاں گوجرانوالہ میں کرائے کے مکان میں رہتے اور ارتکاب جرم کے بعد پھر فرار ہو جاتے۔
گروہ کے ارکان نے پے در پے و ا رداتوں سے پوش کالونیوں میں اودھم مچا دیا ۔ رہائشیوں میں بے چینی پھیل گئی اور انہوں نے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اعلیٰ پولیس افسران سے رابطہ کیا ۔ مذکورہ گینگ کی گرفتاری کے لئے سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر معین مسعود نے ڈی ایس پی سی آئی اے عمران عباس چدھڑکو ٹاسک دیا۔ جنہو ں نے شب و روز محنت کر کے مختلف زاویوں پر تفتیش عمل میں لاتے ہوئے ملزمان کو ٹریس کر کے گرفتار کیا ۔ اور دوران تفتیش ان کے قبضہ سے انچاس لاکھ روپے کے قریب چوری شدہ مال برآمد کیا ۔ آر پی او اورسی پی او نے برآمد شدہ مال کو ڈی سی کالونی میرج ہال میں منعقدہ پروقار تقریب کے دور ان مدعیان کے حوالے کیا ۔ ”حوالگی مال تقریب ”میں ریجنل پولیس آفیسر طارق عباس قریشی ، سنیئر پولیس افسران ، ڈی سی کالونی کی انتظامیہ ، معززین اور مکینوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ تقریب میں ریجنل پولیس آفیسر طارق عباس قریشی ، سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر معین مسعود اور ڈی ایس پی سی آئی اے عمران عباس چدھڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام الناس کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت پولیس کا فرض ہے ۔ جان پر کھیل کر پولیس یہ فرض ادا کر رہی ہے ۔ امن کی فضا میں مزید بہتری لانا پولیس کے فرائض میں شامل ہے ۔شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف پولیس سینہ سپر ہے ۔جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کرتے ہوئے انہیں منطقی انجام تک پہنچاکر دم لیں گے۔
ملزمان کی گرفتاری پر بزنس کمیونٹی ،علاقے کے لوگوں اور مدعی مقدمات نے پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جرائم کے خلاف پولیس کی کوششوں کو سراہا ۔مدعی مقدمات نے مال کی وصولی کے وقت اظہار خیال کرتے ہوئے پولیس کی ورکنگ اور جرائم کے خلاف پولیس کی کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اس موقع پر گوجرانوالہ پولیس زندہ باد اورپاکستان پائندہ باد کے نعرے بھی لگائے ۔ پولیس ا فسران کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ڈی سی کالونی کی انتظامیہ ، کاروباری حضرات اورمعززین نے پولیس افسران کو اعزازی شیلڈز بھی دیں۔
قارئین کرام !جرم کا قدکتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو ایک دن قامت میں بڑا ہو کر سامنے ضرور آتا ہے ۔ تب تک آدمی چور سے ڈاکو بن چکا ہوتا ہے اور مہذب سوسائٹی میں واپسی کے تمام راستے بھی بند ہو چکے ہوتے ہیں ۔ ہر نگاہ اسے ناپسند کرتی ہے ۔ اپنے پرائے سب اسے قبول کرنے سے کتراتے ہیں ۔ شاید یہ نفرت ان اعمال اور افعال کا نتیجہ ہوتی ہے جو بے گناہ لوگوں کوتنگ کرنے اور ان کا مال لوٹنے کے نتیجے میں دی جانے والی بد دعائیں ہوتی ہیں ۔ہمیں ہر وقت قدرت کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے ا ورکسی کی دل ازاری سے گریز کرناچاہیے ۔ جرائم کی دنیا اور گناہوں کی دلدل سے دور رہتے ہوئے اچھے افعال پر توجہ دینا چاہیے تا کہ ہمارے تعاقب میں قانون کی بجائے اچھے اور نیک لوگوں کی دعائیں ہوں جو ہماری بخشش کا نتیجہ بن سکیں۔

About clicknewslive

Check Also

نجی اسکولوں کی فیسوں کا معاملہ، فریقین 26 ستمبر کو طلب

لاہور ہائیکورٹ نے نجی اسکولوں میں اضافی فیسوں کی وصولی کےخلاف درخواست پرفریقین کے وکلاء …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کلک نیوز سے واٹس ایپ پر رابطہ کریں